متحدہ عرب امارات

ابوظہبی عدالت کا اہم فیصلہ، ایمرجنسی میں لیا گیا 1 لاکھ 20 ہزار درہم قرض واپس کرنے اور 15 ہزار درہم ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

خلیج اردو
ابوظہبی کی فیملی، سول اینڈ ایڈمنسٹریٹو کلیمز کورٹ نے ایک شخص کو 1 لاکھ 20 ہزار درہم قرض واپس کرنے اور قرض دینے والے کو مزید 15 ہزار درہم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق مذکورہ شخص نے ہنگامی مالی ضرورت کے دوران ایک شخص سے رقم ادھار لی تھی۔ قرض دینے والے نے دو مرتبہ رقم منتقل کی۔ پہلی مرتبہ 20 ہزار درہم جبکہ دوسری مرتبہ 1 لاکھ درہم ادا کیے گئے۔

قرض دینے والے کے مطابق رقم لیتے وقت شخص نے اسے واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ادائیگی کا وقت آنے پر وہ فون کالز اور پیغامات کا جواب دینے سے گریز کرنے لگا۔

بالآخر قرض دینے والے نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے 1 لاکھ 20 ہزار درہم کی اصل رقم واپس دلانے کے ساتھ اپنی رقم سے محروم رہنے کے باعث ہونے والے نقصان اور ذہنی اذیت پر ہرجانے کا مطالبہ کیا۔

اپنے دعوے کے ثبوت میں قرض دینے والے نے دونوں بینک ٹرانسفرز کی رسیدیں اور دونوں افراد کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ گفتگو عدالت میں پیش کی۔

واٹس ایپ پیغامات سے ظاہر ہوا کہ قرض لینے والے نے رقم وصول کرنے کا اعتراف کیا تھا اور متعدد مرتبہ رقم واپس کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا تاہم بعد میں وہ مبینہ طور پر قرض کی واپسی کے مطالبات سے گریز کرنے لگا۔

عدالتی کارروائی کے دوران قرض لینے والے نے بھی مکمل 1 لاکھ 20 ہزار درہم وصول کرنے کا اعتراف کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے ہنگامی صورتحال کے باعث رقم ادھار لی تھی اور ابتدا ہی سے رقم واپس کرنے کا ارادہ تھا۔

قرض لینے والے نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان رقم واپس کرنے کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں ہوئی تھی۔ اس نے رقم واپس کرنے سے انکار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مزید مالی مشکلات کے باعث وہ ادائیگی نہیں کرسکا۔

اس نے عدالت سے درخواست کی کہ 1 لاکھ 20 ہزار درہم سے زائد کسی بھی مطالبے کو مسترد کیا جائے اور ہرجانے کا دعویٰ بھی خارج کیا جائے۔

عدالت نے قرض لینے والے کے اعتراف، بینک ٹرانسفر کی رسیدوں اور واٹس ایپ پیغامات کو قرض کی موجودگی اور رقم کی عدم ادائیگی کا واضح ثبوت قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کوئی شخص قانونی جواز کے بغیر کسی دوسرے کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتا اور جو رقم وصول کی گئی ہو اسے واپس کرنا لازم ہے۔

عدالت کے مطابق رقم روکے رکھنے کے باعث قرض دینے والا اس رقم کے استعمال سے محروم رہا اور اسے ذہنی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

عدالت نے شخص کو 1 لاکھ 20 ہزار درہم کی مکمل رقم واپس کرنے کے ساتھ قرض دینے والے کو 15 ہزار درہم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button