متحدہ عرب امارات

ابو ظہبی میں والدین کی علیحدگی کے بعد بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے نیا چارٹر منظور

خلیج اردو
ابو ظہبی نے والدین کی علیحدگی کے بعد بچوں کی فلاح و بہبود اور استحکام کو ترجیح دینے کے لیے نیا چارٹر منظور کر لیا۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی دفتر کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید النہیان نے صدر ابو ظہبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے فیصلہ نمبر 43 برائے 2026 جاری کرتے ہوئے ’’پوسٹ سیپریشن چارٹر، ایئر آف دی فیملی‘‘ کی منظوری دے دی۔

چارٹر کا مقصد والدین کے درمیان اختلاف کی صورت میں ان کے تعلقات کو منظم کرنا، بچوں کے نفسیاتی اور سماجی استحکام کو مضبوط بنانا اور خاندانی فیصلوں میں بچوں کے بہترین مفاد کو اولین ترجیح دینا ہے۔

چارٹر کے تحت ازدواجی رشتہ ختم ہونے کے باوجود والدین کا رشتہ ختم نہیں ہوگا اور دونوں والدین بچوں کی دیکھ بھال میں فعال کردار ادا کرتے رہیں گے۔

بچوں کو والدین کے تنازعات سے دور رکھنے پر زور

چارٹر میں والدین کو بچوں کو باہمی اختلافات سے دور رکھنے، تنازعات کے اثرات سے محفوظ رکھنے اور دونوں والدین کے وقار کا خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

والدین پر لازم ہوگا کہ وہ بچوں کے سامنے ایک دوسرے کے بارے میں منفی گفتگو نہ کریں، طلاق یا اختلافات کی وجوہات پر بچوں کے سامنے بات نہ کریں اور بچوں کے ملاقات یا مالی معاونت جیسے قانونی حقوق کو دباؤ یا سودے بازی کے لیے استعمال نہ کریں۔

مشترکہ والدین کی ذمہ داریاں

چارٹر کے تحت والدین بچوں کی تربیت، تعلیم، صحت اور رویوں کی رہنمائی میں باہمی تعاون کریں گے۔

بچوں کے پاس رہنے والا والد یا والدہ دوسرے والدین کو سکول رپورٹس، صحت کی صورتحال اور سکول کی سرگرمیوں سے آگاہ رکھے گا جبکہ تعلیم، طبی علاج اور بچوں کے سفر سے متعلق اہم فیصلوں میں باہمی مشاورت ضروری ہوگی۔

والدین بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت، تعلیم اور تربیت کا خیال رکھنے کے ساتھ انہیں اقدار، فضائل اور اماراتی روایات سے روشناس کرانے کے بھی ذمہ دار ہوں گے۔

دونوں والدین ایک دوسرے کے ملاقات اور بچوں سے رابطے کے حق کو یقینی بنائیں گے اور بچے سے متعلق کسی بھی اہم معاملے سے دوسرے والدین کو آگاہ کریں گے۔

اختلافات کا حل پہلے باہمی رضامندی سے ہوگا

چارٹر کے تحت کسی اختلاف کی صورت میں والدین کو پہلے باہمی رضامندی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔

بات چیت سے معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں تنازع فیملی گائیڈنس سینٹر کو بھیجا جائے گا جہاں صلح کی کوشش اور اختلافات ختم کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی، اس کے بعد ہی عدالتی کارروائی شروع کی جائے گی۔

چارٹر کے نفاذ کے تحت فیملی گائیڈنس کونسلر والدین کی علیحدگی کے بعد انہیں یہ دستاویز پیش کرے گا، جس پر والدین مکمل یا جزوی طور پر دستخط کرکے اس کی شقوں پر عمل کرنے کے پابند ہو سکیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button