
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ’’بلیو ٹیک‘‘ ٹیکنالوجی کا استعمال تیز کردیا ہے، جس کے ذریعے مرجانی چٹانوں کی نگرانی، سمندری حیاتیاتی تنوع کا جائزہ اور ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
دبئی میں محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کی اتھارٹی کے زیر اہتمام دو روزہ تقریب میں ماہرین نے شرکت کی، جہاں معاشی ترقی کے ساتھ حساس سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو اے ای کی معیشت میں سمندری پانی کو میٹھا کرنے، شپنگ، ساحلی سیاحت، ماہی گیری اور سمندر میں قائم انفراسٹرکچر کا اہم کردار ہے، جس کے باعث سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات کی انڈر سیکریٹری برائے حیاتیاتی تنوع ہبہ الشیحی نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کا مقصد صرف شہروں کو محفوظ بنانا نہیں بلکہ عوام کے لیے ایسا ماحول یقینی بنانا ہے جہاں انسان اور قدرتی نظام ساتھ ترقی کرسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں طویل المدتی حیاتیاتی تنوع کا منصوبہ قومی ترقی کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد معاشی ترقی کے ساتھ قدرتی ماحول کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ہبہ الشیحی کے مطابق یو اے ای نے حیاتیاتی تنوع کے لیے اہم علاقوں کے تحفظ میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور ایسے اہم علاقوں کا 98 فیصد حصہ محفوظ بنایا جاچکا ہے۔
مرجانی چٹانوں کی بحالی پر بھی کام جاری
سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے مرجانی چٹانوں کی بحالی، مچھلیوں کے ذخائر کے تحفظ اور قدرتی ذخائر کی حفاظت سمیت مختلف منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق ماہی گیروں کے ساتھ مل کر بھی ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے مچھلیوں کے ذخائر کو محفوظ بنایا جاسکے۔
یو اے ای نے ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے لیے نئی ایکو ٹورازم پالیسی بھی متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد سیاحت اور دیگر انسانی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے قدرتی ماحول کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
وائلڈ لائف اسمگلنگ روکنے کی صلاحیت میں 40 گنا اضافہ
ٹیکنالوجی کا استعمال صرف سمندری تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یو اے ای نے جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی اپنی نگرانی اور نفاذ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ہبہ الشیحی کے مطابق گزشتہ 15 برس کے مقابلے میں جنگلی حیات کی اسمگلنگ کی نشاندہی اور اسے روکنے کی صلاحیت میں 40 گنا اضافہ ہوا ہے۔
اے آئی، بلیو ٹیک کا اہم حصہ
مینا اوشنز کی ڈائریکٹر انورادھا بھٹاچاریہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ’’بلیو ٹیک‘‘ کا صرف ایک حصہ ہے جبکہ بلیو ٹیک میں سمندری ماحول کو سمجھنے، نگرانی کرنے، محفوظ بنانے اور پائیدار انداز میں استعمال کرنے والی مختلف ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
ان میں سمندری نگرانی کے لیے سینسرز اور سیٹلائٹس، زیرِ آب روبوٹس، اے آئی سے مرجانی چٹانوں کی نگرانی، پائیدار آبی زراعت، سمندر میں قابل تجدید توانائی، اسمارٹ شپنگ اور پانی کو صاف کرنے کی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔
انورادھا بھٹاچاریہ نے خبردار کیا کہ دیگر خطوں میں تیار کی گئی ٹیکنالوجی کو خلیجی ممالک میں بغیر تبدیلی کے استعمال نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ مقامی سمندری ماحول اور مرجانی چٹانوں کی خصوصیات مختلف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یو اے ای کے سمندری ماحول کے لیے مؤثر ثابت ہوسکے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی پہلے ہی سمندری نگرانی، آفات کی نقشہ سازی اور ماحولیاتی نظام کی نگرانی میں استعمال ہورہی ہے جبکہ آف شور توانائی اور پانی کو میٹھا کرنے کے شعبوں میں بھی اس کے استعمال سے غلطیوں میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
19 ممالک میں بلیو اکانومی پر مطالعہ
انورادھا بھٹاچاریہ کے مطابق ایک بڑے علاقائی مطالعے میں 19 ممالک اور پانچ اہم شعبوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ساحلی علاقوں کو زیادہ مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
مطالعے میں شپنگ اور بندرگاہیں، آف شور توانائی، ساحلی سیاحت، ماہی گیری و آبی زراعت اور پانی کو میٹھا کرنے کے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق حکومت، نجی شعبے اور سائنسدانوں کے درمیان تعاون کے ذریعے بلیو ٹیک کے استعمال کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے اور سمندری ماحول کے تحفظ کے ساتھ معاشی ترقی کو بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔







