متحدہ عرب امارات

صرف ایک لاکھ ڈالر کے ڈرون حملے سے قطر کی ایل این جی پیداوار 17 فیصد متاثر ہوئی

خلیج اردو
ابوظہبی میں ہیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر ماجد الانصاری نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ علاقائی بحران کے دوران خلیج سے ایل این جی کی سپلائی میں 90 فیصد جبکہ تیل کی ترسیل میں 77 فیصد کمی ہوئی جو ان کے بقول ماضی کے کسی بحران میں نہیں دیکھی گئی۔

ماجد الانصاری نے بتایا کہ صرف ایک ڈرون جس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ نہیں تھی قطر کی ایل این جی پیداواری صلاحیت کو 17 فیصد تک کم کرنے میں کامیاب رہا جبکہ مجموعی بحران کے دوران اسی نوعیت کے حملوں سے عالمی ایل این جی سپلائی کا 20 فیصد سے زائد حصہ متاثر ہوا۔

قطری وزیراعظم کے مشیر کے مطابق خلیج میں ہونے والے 90 فیصد سے زائد حملوں کو ناکام بنایا گیا اور بحران کے دوران کسی بھی خلیجی ملک کو اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنے یا سپلائی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

خلیجی علاقائی سلامتی سے متعلق پینل میں امریکی بحریہ کے سابق ففتھ فلیٹ کمانڈر وائس ایڈمرل جان ملر نے خبردار کیا کہ جدید بحری طاقت کی وسیع رسائی کے باوجود کم قیمت ڈرونز اور ساحل سے چلائی جانے والی چھوٹی کشتیاں آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں بلکہ سفارتی اور اقتصادی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

پینل میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے پالیسی پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے نمائندے نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران نے خلیجی ممالک کے مشترکہ خطرات کے ادراک کو مؤثر اجتماعی کارروائی میں تبدیل کرنے میں موجود خامیوں کو نمایاں کردیا ہے۔

ہیلی فورم کا تیسرا ایڈیشن ابوظہبی کے دی سینٹ ریجس سعدیات آئی لینڈ ریزورٹ میں ’’گلف ایٹ کراس روڈز: کنفلکٹ، کانسیکوینسز اینڈ کورس کریکشن‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ فورم کا مشترکہ انعقاد ایمریٹس سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ اور انور قرقاش ڈپلومیٹک اکیڈمی نے کیا جس میں 35 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زائد شرکا اور 55 سے زائد مقررین نے شرکت کی۔

فورم میں خلیجی سلامتی کے نظام، دفاعی پالیسی، اہم بحری راستوں کی سکیورٹی اور تجارت و توانائی کی سپلائی چینز کے استحکام پر بھی گفتگو کی گئی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button