متحدہ عرب امارات

دبئی میٹرو کے 17 سال مکمل، مسافروں نے ٹرین سے جڑی یادیں تازہ کردیں

خلیج اردو
دبئی میٹرو کو شہریوں کی زندگی کا حصہ بنے 17 سال مکمل ہوگئے۔ 9 ستمبر 2009 کو ریڈ لائن سے شروع ہونے والا یہ سفری نظام آج دبئی میں لاکھوں افراد کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

دبئی میٹرو کی گرین لائن ستمبر 2011 میں شروع کی گئی۔ 17ویں سالگرہ کے موقع پر طویل عرصے سے میٹرو استعمال کرنے والے مسافروں نے ٹرین سے جڑی اپنی یادیں اور زندگی پر اس کے اثرات بیان کیے۔

18 سالہ دبئی رہائشی علیشہ قدری روزانہ یونیورسٹی آنے جانے کے لیے دو گھنٹے سے زائد وقت میٹرو میں گزارتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ میٹرو سے صرف ایک سال بڑی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ میٹرو کے ساتھ ہی بڑی ہوئی ہیں۔

16 سالہ مہرین ارفاز نے بتایا کہ بچپن سے ہی انہیں میٹرو کا جنون تھا۔ ان کے مطابق ایک سال کی عمر میں جب ان کا خاندان شیخ زاید روڈ پر منتقل ہوا تو گھر سے گزرتی میٹرو دیکھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔

روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات آنے والے کئی افراد کے لیے بھی دبئی میٹرو ایک سہارا ثابت ہوئی۔ شین صابر نے بتایا کہ دبئی پہنچنے کے صرف دو دن بعد وہ پہلی مرتبہ ملازمت کے انٹرویو کے لیے میٹرو میں سفر کر رہے تھے۔ راستے میں برج خلیفہ اور بلند عمارتیں دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ وہ واقعی دبئی پہنچ چکے ہیں۔

صابر کے مطابق میٹرو نے انہیں ملازمت کے انٹرویوز سے لے کر کام تک پہنچایا اور گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی زندگی کے مختلف مراحل کی گواہ رہی۔

سوڈانی شہری سحر نے بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت کی تلاش کے ابتدائی دنوں میں میٹرو ان کے لیے لائف لائن ثابت ہوئی۔ وہ اپنے تمام ملازمت کے انٹرویوز کے لیے میٹرو سے سفر کرتی تھیں۔

نیپالی شہری منو ادھیکاری نے بتایا کہ دبئی آنے کے بعد ملازمت کی تلاش کے دوران بھی وہ میٹرو استعمال کرتی رہیں اور اب ملازمت ملنے کے بعد بھی یہ ان کے روزمرہ سفر کا اہم ذریعہ ہے۔

مسافروں کے مطابق دبئی میٹرو صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ اجنبی لوگوں کو قریب لانے کا وسیلہ بھی بن چکی ہے۔ علیشہ نے بتایا کہ رش کے اوقات میں دھکم پیل کے باوجود میٹرو میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا احساس موجود رہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ میٹرو میں خراب دن کی وجہ سے رو رہی تھیں تو ایک اجنبی مسافر نے انہیں چاکلیٹ پیش کی۔ ایک اور موقع پر امتحان کی تیاری کے دوران ان کی ایک لڑکی سے دوستی ہوگئی جو اسی امتحان کے لیے جا رہی تھی۔ دونوں نے بعد میں ایک ساتھ ناشتہ کیا اور آج بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

میٹرو استعمال کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ اس سفر کی سب سے خوبصورت بات وہ انسانی رشتے ہیں جو کبھی کبھار اجنبی لوگوں کے درمیان بھی قائم ہوجاتے ہیں۔

دبئی میٹرو کے مستقبل میں مزید توسیع بھی متوقع ہے۔ بلیو لائن اور گولڈن لائن سمیت مزید منصوبے آنے والے برسوں میں دبئی کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو مزید وسعت دیں گے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button