
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں صحت کے ماہرین نے شہریوں اور رہائشیوں کو مشورہ دیا ہے کہ معمولی یا مسلسل علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ لیا جائے، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں صحت کے مسائل کی نشاندہی انہیں زیادہ آسانی سے قابو کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت کے بارے میں درست فیصلوں کے لیے علامات کو سمجھنا، مناسب طبی سہولت کا انتخاب اور ہیلتھ انشورنس کے فوائد سے آگاہی ضروری ہے۔
سیگنا ہیلتھ کیئر مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ کی کلینیکل سربراہ ڈاکٹر چارو تھڈانی کے مطابق صحت سے متعلق معلومات کا مقصد طبی ماہر بننا نہیں بلکہ علامات کو سمجھ کر بروقت مدد حاصل کرنے کے لیے اعتماد پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی علامات اور ڈاکٹر سے پوچھے جانے والے سوالات کو بہتر طور پر سمجھیں تو وہ زیادہ جلد طبی مدد حاصل کرتے اور دستیاب سہولیات سے مؤثر فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا کہ بار بار ہونے والے سر درد، نیند کی خرابی، ہاضمے کے مسائل، کم توانائی یا مسلسل ذہنی دباؤ کو معمول سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ کئی ہفتوں تک برقرار رہنے والی یا معمول کے رویے میں تبدیلی پیدا کرنے والی علامات پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
غیر ہنگامی مسائل میں جنرل فزیشن یا فیملی ڈاکٹر سے ابتدا کو مؤثر قرار دیا گیا ہے، جو ضرورت کے مطابق علاج، ٹیسٹ یا ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی تجویز دے سکتا ہے۔ ٹیلی ہیلتھ بھی ابتدائی مشورے کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
ماہرین نے ہیلتھ انشورنس کے تحت دستیاب سہولیات، نیٹ ورک ہسپتالوں، پیشگی منظوری، اسکریننگ، ویکسینیشن، ٹیلی ہیلتھ اور ذہنی صحت کی سہولیات سے پہلے ہی آگاہ ہونے پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ معمول کے طبی معائنے اور حفاظتی اسکریننگ کو صحت کے معمول کا حصہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس کے خطرے اور دیگر مسائل کی بروقت نشاندہی ہوسکے۔







