
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وفاقی قومی کونسل کی دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے کہا ہے کہ کسی ملک کو اپنا بیانیہ بنانے کے لیے مصنوعی کوششوں کی ضرورت نہیں، اگر اس کی کامیابیاں خود بول رہی ہوں۔ دبئی میں عرب میڈیا سمٹ کے دوران ’’عالمی زبان میں بات چیت‘‘ کے عنوان سے نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اور ان کی زندگیوں میں بہتری خود ملک کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد عالمی بیانیہ تشکیل دیتی ہے۔
ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے خلیجی اور عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر اپنا تشخص بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے اپنے عوام پر سرمایہ کاری کریں اور ملک کے اندر ٹھوس نتائج حاصل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سامعین کے لیے تصویر بنانے کے بجائے لوگوں کی زندگی بہتر بنائی جائے، کیونکہ کامیاب داخلی پالیسیاں ہی قابل اعتبار عالمی بیانیے کی بنیاد بنتی ہیں۔
انہوں نے صحافیوں، میڈیا ماہرین اور مواد تخلیق کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ متحدہ عرب امارات اور عرب دنیا کی عالمی نمائندگی میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا نے رابطے کو براہ راست اور عالمی بنا دیا ہے، اس لیے خطے کی کامیابیوں کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے کہا کہ عربوں، مسلمانوں، خلیجی شہریوں اور اماراتیوں کے بارے میں کئی برسوں سے قائم تصورات کو خطے کی حالیہ ترقی نے چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کا دفاعی انداز میں جواب دینے یا خود کو مظلوم کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اپنی کامیابیاں دنیا کے سامنے پیش کی جائیں اور مسائل کے حل کی ذمہ داری خود قبول کی جائے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات کی ڈیجیٹل تبدیلی کو ملک کی نرم طاقت کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کے ذریعے سرکاری خدمات، مصنوعی ذہانت اور سمارٹ نظام کا بڑھتا استعمال دنیا کے سامنے ملک کی ترقی کا عملی ثبوت ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل سفارت کاری دنیا بھر کے لوگوں سے براہ راست رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے کہا کہ لوگوں کو متحدہ عرب امارات کا خود تجربہ کرنے کا موقع دینا بھی اہم ہے، کیونکہ براہ راست رابطہ تشہیری پیغامات کے مقابلے میں غلط تصورات کو زیادہ مؤثر انداز میں تبدیل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دیواریں نہیں، پل بنائے جائیں، دروازے اور دل کھولے جائیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچ پوری عرب دنیا تک پھیلائی جانی چاہیے اور نوجوانوں کو انسانی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔







