
خلیج اردو
ایمریٹس ایئرلائن نے علاقائی بحران کے باوجود ملازمتوں میں کوئی کٹوتی نہ کرنے اور نئی بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایمریٹس کے ڈپٹی پریذیڈنٹ اور چیف کمرشل آفیسر عدنان کاظم نے کہا کہ ایئرلائن نے نہ بھرتیاں روکی ہیں اور نہ منجمد کی ہیں، کیونکہ ایمریٹس مسلسل ترقی کر رہی ہے۔
عدنان کاظم نے کہا کہ بحران کے دوران بھی ملازمتوں کے حوالے سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور ادارہ معمول کے مطابق کام کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی پالیسی مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایمریٹس اپنی مجموعی پروازوں کی گنجائش کے تقریباً 96 فیصد پر کام کر رہی ہے، جبکہ جولائی اور اگست کے دوران 86 لاکھ مسافروں نے ایئرلائن سے سفر کیا۔ نشستوں کی اوسط شرح استعمال 75 فیصد رہی اور برقرار رہنے والی بکنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔
عدنان کاظم کے مطابق اکتوبر سے شروع ہونے والے موسم سرما کے سفر کے لیے بھی بکنگ کا رجحان مضبوط ہے۔ یورپ، ایشیا، امریکا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے مسافروں کی طلب برقرار ہے۔ موسم سرما میں 11 موجودہ روٹس پر پروازوں کی تعداد بڑھانے، بعض روٹس پر مزید اے 380 طیارے شامل کرنے اور فن لینڈ کے لیے نئی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
ایمریٹس نے اسپیس ایکس کی اسٹارلنک وائی فائی سہولت 53 طیاروں میں فراہم کردی ہے اور ہر ماہ مزید 12 سے 14 طیاروں میں یہ نظام نصب کیا جا رہا ہے۔ 5 ارب ڈالر کے طیاروں کی تزئین و آرائش کے پروگرام کے تحت آئندہ سال تک 232 طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا ہدف بھی برقرار ہے۔
عدنان کاظم نے کہا کہ تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کی بلند تیل قیمتیں اب بھی بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2025-26 میں ایندھن ایئرلائن کے آپریٹنگ اخراجات کا 29 فیصد رہا اور ایندھن کا مجموعی بل 312 ارب درہم رہا۔ دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقلی کا منصوبہ بھی 2032 تک مکمل کرنے کے ہدف کے مطابق جاری ہے، جبکہ علاقائی بحران کے مالی اثرات کی مکمل تفصیلات نومبر میں جاری ہونے والے نتائج میں سامنے آئیں گی۔







