
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بچوں میں فلو اور سانس کی بیماریوں کے کیسز سامنے آنے کے بعد اسکولوں اور ڈاکٹروں نے والدین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسکولوں کی جانب سے والدین کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں کہ فلو جیسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بچوں کو گھر پر رکھا جائے۔
ڈاکٹروں کے مطابق فلو کی عام علامات میں تیز بخار، کھانسی، گلے میں درد، ناک بند ہونا یا بہنا، جسم میں درد اور تھکن شامل ہیں، جبکہ بعض بچوں کو الٹی اور اسہال بھی ہوسکتا ہے۔
اسکولوں نے ہدایت کی ہے کہ فلو جیسی علامات والے بچوں کو اس وقت تک اسکول نہ بھیجا جائے جب تک وہ بخار کم کرنے والی دوا استعمال کیے بغیر کم از کم 24 گھنٹے تک بخار سے پاک نہ رہیں۔
متحدہ عرب امارات کے ماہرین اطفال کے مطابق اسکول دوبارہ کھلنے کے بعد بچوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے اور رواں سال انفلوئنزا اے کے کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق فلو عام طور پر 7 سے 10 دن تک رہ سکتا ہے، تاہم کھانسی اور تھکن زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ بعض بچوں میں بروقت اینٹی وائرل دوا بیماری کی شدت اور دورانیہ کم کرسکتی ہے، خصوصاً ان بچوں میں جنہیں پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ہو، تاہم دوا کے استعمال سے قبل ماہر اطفال سے مشورہ ضروری ہے۔
ڈاکٹروں نے والدین کو بچوں کی ویکسینیشن، مناسب غذا اور پانی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کی باقاعدگی سے صفائی اور کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپنے کی عادت اپنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
ماہرین کے مطابق بیمار بچے کو ممکنہ حد تک بہن بھائیوں سے الگ رکھنا اور تولیے، کپ، گلاس یا کھانے کے برتن مشترکہ طور پر استعمال نہ کرنا بھی انفیکشن کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ شدید بخار، سانس لینے میں دشواری، کھانے پینے سے انکار یا غیر معمولی تھکن کی صورت میں والدین کو طبی مشورہ لینا چاہیے۔







