متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے دبئی میڈیا آفس کے مطابق شیخ احمد بن راشد المکتوم پیر کی صبح 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے دبئی میڈیا آفس کے مطابق شیخ احمد بن راشد المکتوم پیر کی صبح 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

دبئی میں ان کے انتقال پر پیر سے 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے دوران امارت بھر میں پرچم سرنگوں رہیں گے۔

نماز جنازہ منگل 22 ستمبر کو دوپہر ایک بجے دبئی کی زعبیل گرینڈ مسجد میں ادا کی جائے گی۔ سوگواران سے تعزیت منگل کو عصر سے مغرب تک جبکہ بدھ اور جمعرات کو صبح 10 بجے سے نماز ظہر تک اور نماز عصر کے بعد مغرب تک وصول کی جائے گی۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اپنے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کے لیے مغفرت اور جنت میں اعلیٰ مقام کی دعا کی۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے بھی دبئی کے حکمران سے ان کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کی اور کہا کہ متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد ملک کی ترقی میں شیخ احمد کی طویل خدمات قومی ترقی کے سفر کے لیے باعث تحریک رہیں گی۔

دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے مرحوم چچا کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ وہ خاندان کی ایک محبوب شخصیت تھے اور ہمیشہ دلوں، یادوں اور دعاؤں میں زندہ رہیں گے۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے سابق حکمران اور متحدہ عرب امارات کے سابق نائب صدر شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔

انہوں نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دبئی کی سینٹرل ملٹری ریجن میں خدمات انجام دیں اور بعد میں اس کے کمانڈر ان چیف بنے۔ ان کی قیادت میں سینٹرل ملٹری ریجن متحدہ عرب امارات کے اہم فوجی مراکز میں شامل ہوا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم کا الوصل اسپورٹس کلب سے بھی تقریباً چھ دہائیوں پر محیط تعلق رہا۔ کلب 1960 میں زعبیل میں الزمالک کے نام سے قائم ہوا تھا۔ شیخ احمد نے 1962 میں اس کے پہلے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل میں کردار ادا کیا اور 1974 تک چیئرمین رہے، بعد ازاں طویل عرصے تک کلب کے صدر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔

گھڑ دوڑ کے شعبے میں بھی شیخ احمد بن راشد المکتوم کا اہم کردار تھا۔ انہوں نے جبل علی ریس کورس قائم کیا، جبکہ گھڑ دوڑ کی صنعت کے فروغ کے لیے العادیات اور دبئی ہارس ریسنگ سینٹر بھی شروع کیا۔ انہوں نے ہینڈی کیپنگ سسٹم اور گھڑ دوڑ کے دیگر قواعد کی تیاری میں بھی اپنی ٹیم کے ساتھ کام کیا۔

بحری کھیلوں کے فروغ میں بھی ان کا کردار رہا۔ شیخ احمد نے دبئی انٹرنیشنل میرین کلب کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور 1988 میں اس کے پہلے چیئرمین بنے۔ کلب بعد میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا پہلا ادارہ بنا جو یونین انٹرنیشنل موٹوناٹیک، یو آئی ایم، کا رکن بنا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم نے 1989 میں وکٹری ٹیم کے قیام میں بھی کردار ادا کیا، جو متحدہ عرب امارات میں موٹر اسپورٹس اور بحری کھیلوں کے نمایاں اداروں میں شمار ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button