
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں آئی فون 17 کی قیمت ایک سال پہلے 3 ہزار 399 درہم تھی، تاہم اب ایپل نے اس کی قیمت بڑھا کر 3 ہزار 799 درہم کردی ہے۔ فون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، لیکن اس کی قیمت میں 400 درہم کا اضافہ ہوگیا ہے۔
موبائل فونز کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان صرف ایپل تک محدود نہیں۔ نئے آئی فون 18 پرو اور پرو میکس کی قیمتیں گزشتہ سال کے ماڈلز سے زیادہ ہیں۔ سام سنگ کے گلیکسی زیڈ فولڈ 8 الٹرا کی قیمت بھی اس کے پیشرو گلیکسی زیڈ فولڈ 7 کے مقابلے میں 400 درہم زیادہ ہے، جبکہ گوگل نے پکسل 11 سیریز کے تمام فونز کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
عام طور پر نئے ماڈل آنے کے بعد گزشتہ سال کے فونز سستے ہوجاتے ہیں، لیکن رواں سال یہ روایت تبدیل ہوگئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ میموری چپس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بتایا جارہا ہے، جس کا اضافی بوجھ موبائل فون بنانے والی کمپنیاں صارفین کو منتقل کررہی ہیں۔
گوگل نے پکسل 11 پرو کی قیمت میں 100 ڈالر اضافہ کیا جبکہ بنیادی ماڈل میں ریم 16 جی بی سے کم کرکے 12 جی بی کردی۔ کمپنی نے اس کی وجہ سپلائرز کی جانب سے ریم کی شدید قلت کو قرار دیا ہے۔
کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق رواں سال عالمی سطح پر پہلے سے مارکیٹ میں موجود موبائل فونز کی قیمتوں میں تقریباً 15 فیصد جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نئے ماڈلز کی قیمتیں ان کے پیشرو ماڈلز کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ میموری ہے۔ ڈی آر اے ایم اور نینڈ میموری کی قیمتیں ایک سال کے دوران 300 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ میموری بنانے والی کمپنیوں نے اپنی پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ ہائی بینڈ وڈتھ میموری، یعنی ایچ بی ایم، کی جانب منتقل کردیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا سینٹرز میں زیادہ منافع بخش ہے۔
سام سنگ، ایس کے ہائینکس اور مائیکرون دنیا کی تقریباً 90 فیصد ڈی آر اے ایم مارکیٹ پر مشتمل ہیں۔ تاہم بعض صارفین اور چھوٹے کاروباری اداروں نے امریکا میں ان کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب کو عام میموری کی قلت برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ کمپنیوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
ماہرین کے مطابق میموری کی قلت فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔ ایس کے ہائینکس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2027 میں صورتحال 2026 کے مقابلے میں مزید مشکل ہوسکتی ہے، جبکہ انٹیل کے چیف ایگزیکٹو لیپ بو تان کے مطابق صورتحال میں بہتری 2028 سے پہلے مشکل ہے۔
نئی میموری فیکٹریاں قائم کرنے میں اربوں ڈالر اور کم از کم 18 ماہ درکار ہوتے ہیں، اس لیے نئی پیداواری صلاحیت کا اثر فوری طور پر مارکیٹ پر پڑنے کا امکان نہیں۔
ماہرین کے مطابق میموری کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود موبائل فونز کی قیمتیں لازمی طور پر واپس نہیں آتیں۔ 2022 اور 2023 میں میموری کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہوئی تھیں، لیکن اس کے باوجود موبائل فونز کی عالمی اوسط قیمت میں اضافہ جاری رہا۔
قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر سستے اور درمیانے درجے کے فونز پر پڑ رہا ہے۔ بعض انٹری لیول فونز کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے عرصے میں کم قیمت والے موبائل فون خریدنے والے صارفین کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔







