متحدہ عرب امارات

UAE میں 30 سے 50 سال کی عمر کے افراد میں دل کے امراض میں تشویشناک اضافہ، ڈاکٹر کی وارننگ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 31 سے 50 سال کی عمر کے افراد میں دل کے امراض کے علاج کے کیسز میں اضافہ سامنے آیا ہے، دبئی کے ایک اسپتال کی کیتھیٹرائزیشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق اس عمر کے افراد دل کے مریضوں کی بڑی تعداد پر مشتمل ہیں۔

ایسٹر اسپتال اینڈ کلینکس کے سربراہ برائے کارڈیک سروسز ڈاکٹر نوید احمد نے اس رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے زیر علاج آنے والے کم عمر ترین مریضوں میں ایک 19 سالہ شخص بھی شامل تھا، جس کی دل کی تینوں شریانیں بند تھیں۔

ایسٹر اسپتال منخول کی کارڈیک کیتھیٹرائزیشن لیب میں 2018 سے اب تک 10 ہزار سے زائد طبی طریقہ کار کیے جاچکے ہیں۔ 3 ہزار 500 سے زائد مریضوں کے تجزیے کے مطابق تقریباً نصف مریضوں کی عمریں 31 سے 50 سال کے درمیان تھیں، جبکہ تقریباً 30 فیصد مریض 51 سے 60 سال اور 10 سے 15 فیصد 60 سال یا اس سے زائد عمر کے تھے۔

ڈاکٹر نوید احمد کے مطابق 20 سال کی عمر کے مریض بھی باقاعدگی سے سامنے آتے ہیں اور بعض اوقات ایک ماہ میں ایسا مریض بھی زیر علاج آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کئی کیسز میں دل کے امراض یا اچانک دل کی موت کی خاندانی تاریخ سامنے آتی ہے، جبکہ کچھ افراد جینیاتی طور پر کم عمری میں شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق 90 فیصد سے زائد مریض جنوبی ایشیائی خطے سے تعلق رکھتے تھے، جن میں 65 فیصد سے زیادہ بھارتی شہری تھے، جبکہ پاکستانی اور فلپائنی مریض بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔

ڈاکٹر نوید احمد نے جنوبی ایشیائی آبادی میں جینیاتی رجحان کے ساتھ غیر صحت مند طرز زندگی کو دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں شمار کیا۔ ان کے مطابق ورزش کی کمی، غیر متوازن غذا، زیادہ سگریٹ نوشی اور کام کے دباؤ سمیت مختلف عوامل کم عمری میں دل کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی، ورزش یا فٹبال کھیلتے ہوئے چکر آنا اور دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونے جیسی علامات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ڈاکٹر کے مطابق بروقت طبی معائنوں کے ذریعے دل کی دھڑکن میں پیدا ہونے والی بعض خطرناک بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر نوید احمد نے کہا کہ بعض اسمارٹ واچز دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی کا پتا لگانے اور ای سی جی ریکارڈ کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، جسے مریض طبی معائنے کے لیے ڈاکٹر کے ساتھ شیئر کرسکتا ہے۔

انہوں نے 30 اور 40 سال کی عمر کے افراد کو روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش کرنے، جسمانی سرگرمی بڑھانے، صحت مند غذا استعمال کرنے، مناسب نیند لینے اور سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق جن افراد کے خاندان میں ذیابیطس، کولیسٹرول یا دل کے امراض کی تاریخ موجود ہو، انہیں باقاعدگی سے طبی اسکریننگ بھی کرانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button