متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا ایران کے زیر قبضہ تین جزائر کے تنازع کے پرامن حل پر زور، عالمی عدالت سے رجوع کا آپشن بھی پیش

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے ایران کے زیر قبضہ اپنے تین جزائر، گریٹر تنب، لیزر تنب اور ابوموسیٰ پر خودمختاری کے مؤقف کو دہراتے ہوئے تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے یو اے ای کے وزیر مملکت خلیفہ شاہین المعر نے کہا کہ اس تنازع کو براہ راست مذاکرات یا عالمی عدالت انصاف سے رجوع کے ذریعے پرامن طور پر حل کیا جانا چاہیے۔

یو اے ای کے مطابق ایرانی فوجی دستوں نے 30 نومبر 1971 کو ان تینوں جزائر پر قبضہ کیا تھا، جو متحدہ عرب امارات کے قیام سے دو روز قبل کا واقعہ تھا۔ یو اے ای نے اسی سال 9 دسمبر کو پہلی مرتبہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے اٹھایا تھا۔

اس کے بعد سے متحدہ عرب امارات مسلسل تینوں جزائر پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا آیا ہے اور اپنے مؤقف کے حق میں تاریخی دستاویزات کو قانونی اور تاریخی شواہد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یو اے ای کا کہنا ہے کہ وہ جزائر کو اپنی خودمختاری میں واپس لینے کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔

خلیفہ شاہین المعر نے جزائر کے معاملے پر یو اے ای کے مؤقف کو ایسی خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیا جس میں کشیدگی میں کمی، مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینا اور تنازعات کا پرامن حل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطہ اور دنیا تیزی سے تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں جہاں چیلنجز اور تقسیم میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات ان چیلنجز کو امن، ترقی اور خوشحالی کے مواقع میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

یو اے ای کے وزیر مملکت کے مطابق اس پالیسی کی بنیاد سفارت کاری اور مذاکرات، ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر قائم ہے، جو طویل عرصے سے یو اے ای کی داخلی اور خارجہ پالیسی کا حصہ رہے ہیں۔

فلسطین کے معاملے پر خلیفہ شاہین المعر نے دو ریاستی حل کیلئے متحدہ عرب امارات کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اسرائیل کے ساتھ امن اور سلامتی سے قائم ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کی جانب سنجیدہ سیاسی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے، جبکہ غزہ میں تنازع ختم کرنے کے بین الاقوامی منصوبے اور اس سے منسلک روڈ میپ پر مکمل عملدرآمد بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں غزہ سے اسرائیلی انخلا، حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ و مغربی کنارے کو ایک اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد کرنا شامل ہونا چاہیے، جو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ہتھیاروں کا اختیار اسی کے پاس ہو۔

خلیفہ شاہین المعر نے مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات، بشمول آبادکاری کی سرگرمیوں، آبادکاروں کے تشدد، فلسطینی دیہات کے محاصرے اور مشرقی یروشلم و مقدس مقامات پر خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کیلئے متحدہ عرب امارات کا عزم کئی دہائیوں سے برقرار ہے اور موجودہ دور میں بھی غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں یو اے ای کا کردار جاری ہے، جبکہ مغربی کنارے میں بھی انسانی اور ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔

سوڈان، یوکرین اور دیگر علاقائی تنازعات کے حوالے سے خلیفہ شاہین المعر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات یمن، لیبیا، ساحل کے خطے، جمہوری جمہوریہ کانگو، میانمار اور ہیٹی میں امن کے حصول کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

یوکرین کے معاملے پر انہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کیلئے یو اے ای کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً 8 ہزار قیدیوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کیلئے 26 ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات شام اور لبنان سمیت ان ممالک کی حمایت کیلئے بھی تیار ہے جہاں مثبت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور جو زیادہ سلامتی اور استحکام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

سوڈان کے حوالے سے یو اے ای کے وزیر مملکت نے خانہ جنگی اور انسانی بحران کے خاتمے کیلئے مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد شہریوں کی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل شروع ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں ایسا سویلین نظام حکومت قائم ہو جو تنازع کے دونوں فریقوں اور انتہاپسند گروہوں سے آزاد ہو۔

خلیفہ شاہین المعر نے کہا کہ سوڈان کے مستقبل کا فیصلہ صرف سوڈانی عوام کو کرنا چاہیے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پورٹ سوڈان کی انتظامیہ اور ریپڈ سپورٹ فورسز پر بین الاقوامی اقدامات کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کیلئے دباؤ ڈالے۔

علاقائی بحرانوں کے باوجود متحدہ عرب امارات کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک نے اپنے گرد موجود بحرانوں کو گزشتہ کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ مختلف شعبوں میں ترقی کا عمل جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے صنعتی صلاحیتوں، جدید دفاعی نظام، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے ساتھ انسانی وسائل اور علم و جدت پر مبنی معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی مضبوطی میں اضافہ کیا ہے۔

ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 38 ممالک کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے بھی کیے ہیں، جن کا مقصد منڈیوں اور سپلائی چینز میں تنوع پیدا کرنے کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

خلیفہ شاہین المعر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات عالمی سطح پر منڈیوں اور سرمایہ کو جوڑنے والے مرکز کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط کرتا رہے گا، جبکہ مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری بھی جاری رکھی جائے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اعتدال پسندی کے اصول پر قائم رہے گا، تشدد اور انتہاپسندی کو مسترد کرے گا اور عوام اور خطے کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای خطے اور دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تعمیر، تباہی کے بجائے اتحاد اور تقسیم کے بجائے یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button