
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے ایک نایاب خون کی بیماری میں مبتلا بالغ افراد کے لیے نئی دوا کی منظوری دے دی ہے، جس سے جسم میں ضرورت سے زیادہ سرخ خون کے خلیات بننے کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے پولی سائیتھیمیا ویرا میں مبتلا بالغ افراد کے علاج کے لیے مِم رائلو، جسے روسفرٹائڈ بھی کہا جاتا ہے، کی منظوری دی ہے۔ ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں اس علاج کی منظوری دی گئی ہے۔
پولی سائیتھیمیا ویرا میں جسم ضرورت سے زیادہ سرخ خون کے خلیات بناتا ہے، جس کے نتیجے میں خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور خون کے لوتھڑے بننے سمیت دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس بیماری کے علاج کے لیے بعض مریضوں میں باقاعدگی سے خون نکالنے کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، جسے تھیراپیوٹک فلیبوٹومی کہا جاتا ہے۔ مریض کی حالت کے مطابق یہ عمل بار بار دہرانا پڑ سکتا ہے۔
مِم رائلو جسم میں آئرن کے استعمال کو منظم کرکے اضافی سرخ خون کے خلیات کی پیداوار کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ دوا ساز کمپنی ٹیکیدا کے مطابق کلینیکل ٹرائلز میں دوا نے سرخ خون کے خلیات کی سطح کو کنٹرول کرنے، خون نکالنے کے طریقہ علاج کی ضرورت کم کرنے اور تھکن میں بہتری لانے میں مدد کی۔
امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ کے مطابق نئی منظوری سے اس بیماری میں مبتلا بالغ مریضوں کے لیے علاج کا ایک اضافی آپشن دستیاب ہوگا۔ تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ دوا مریضوں کو کب دستیاب ہوگی، اس کی مقامی قیمت کیا ہوگی یا آیا اسے انشورنس کوریج حاصل ہوگی۔
ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فاطمہ الکعبی کے مطابق منظوری کا مقصد سائنسی جائزے کے ذریعے جدید علاج تک مریضوں کی رسائی کو بہتر بنانا ہے، جبکہ نایاب بیماریوں کے مریضوں کے لیے بروقت علاج کے نئے آپشنز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
مِم رائلو سنگل ڈوز وائلز میں پاؤڈر کی شکل میں دستیاب ہوگی، جسے استعمال سے قبل تیار کرنا ضروری ہے۔ حکام کے مطابق دوا ایسے ماہر طبی عملے کی نگرانی میں دی جانی چاہیے جو پولی سائیتھیمیا ویرا کے علاج کا تجربہ رکھتے ہوں۔







