
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعہ کسی دہشت گردانہ سرگرمی یا مقصد سے منسلک تھا یا اس میں پہلے سے منصوبہ بندی یا کسی کی ہدایت شامل تھی۔ اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی پبلک پراسیکیوشن تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اماراتی اداروں کے تعاون سے کام شروع کردیا ہے۔
واقعہ 30 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تل ابیب کے بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ جارہی تھی۔ دوران پرواز کاک پٹ میں جھگڑا ہوا، جس کے بعد پرواز کے عملے نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا اور طیارے کو محفوظ بنانے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا۔ طیارے نے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کی۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے تحقیقاتی ٹیم کو واقعے سے متعلق تمام معلومات اور شواہد اکٹھے کرنے، حقائق کا تعین کرنے اور واقعے کے حالات و محرکات کا جائزہ لینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کی مکمل نوعیت سامنے آنے تک کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جائے گا۔
اٹارنی جنرل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک قیاس آرائیوں یا غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو واقعے سے متعلق کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے مجاز حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری بیانات اور معلومات پر انحصار کرنا چاہیے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بھی واقعے کی نگرانی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کا اختیار اماراتی عدالتی حکام کے پاس ہے کیونکہ طیارہ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ اور اماراتی پرچم کے تحت پرواز کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق نافذ قوانین کے تحت طیارے میں ہونے والے جرائم پر متحدہ عرب امارات کا قانون لاگو ہوتا ہے، چاہے واقعہ ملکی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آیا ہو۔
یو اے ای حکام نے واقعے سے نمٹنے اور طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے دوران تعاون پر سعودی حکام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق واقعے میں طیارے کے عملے کے بعض ارکان زخمی ہوئے جنہیں سعودی عرب میں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں جھگڑا ہوا، تاہم دوران پرواز موجود ڈیوٹی پر مامور فلائی دبئی کے عملے نے مداخلت کرکے طیارے کو محفوظ بنایا اور اسے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا۔ ایئرلائن کے مطابق تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور ان کا حساب مکمل کرلیا گیا ہے۔
فلائی دبئی نے مسافروں اور عملے کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے دو متبادل طیارے بھی تبوک روانہ کیے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ واقعے کے باعث اس کے نیٹ ورک پر دیگر شیڈول پروازیں متاثر نہیں ہوئیں۔ فلائی دبئی نے واضح کیا تھا کہ واقعے کی بنیادی وجوہات اور محرکات تاحال معلوم نہیں اور حکام کی جانب سے حقائق جمع کیے جانے تک تمام فریقوں کو قبل از وقت قیاس آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔







