متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے سیارچوں کی پٹی کی جانب اپنے اہم خلائی مشن کے لیے تیار کیے جانے والے پروب کی رونمائی کردی۔ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے کہا ہے کہ ایم بی آر ایکسپلورر دو سال سے بھی کم عرصے میں پرواز کے لیے تیار ہوگیا ہے۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سیارچوں کی پٹی کی جانب اپنے اہم خلائی مشن کے لیے تیار کیے جانے والے پروب کی رونمائی کردی۔ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے کہا ہے کہ ایم بی آر ایکسپلورر دو سال سے بھی کم عرصے میں پرواز کے لیے تیار ہوگیا ہے۔

ایم بی آر ایکسپلورر کو متحدہ عرب امارات میں تیار، اسمبل اور ٹیسٹ کیا جارہا ہے، جو ملک کے خلائی پروگرام اور گہرے خلا میں مشنز کے لیے مقامی تکنیکی صلاحیتیں بڑھانے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

شیخ حمدان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ کامیابی متحدہ عرب امارات کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت 150 سے زائد انجینئرز اور سائنسدان ایک قومی ٹیم کی حیثیت سے ایسے مشن پر کام کررہے ہیں جو تقریباً 5 ارب کلومیٹر کا سفر کرکے 7 سیارچوں کا جائزہ لے گا۔

مشن کو 2028 کی پہلی سہ ماہی میں جاپان سے لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ خلائی جہاز زہرہ، زمین اور مریخ کے قریب کشش ثقل کی مدد سے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے مریخ سے آگے موجود مرکزی سیارچوں کی پٹی تک پہنچے گا۔

متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی کے مطابق اس منصوبے میں ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ، ہیکس 20، خلیفہ یونیورسٹی اور متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کے نیشنل اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر سمیت مختلف ادارے شریک ہیں۔ منصوبے کے 50 فیصد کام کی ذمہ داری متحدہ عرب امارات میں قائم نجی شعبے کی کمپنیوں کو دی گئی ہے۔

ایم بی آر ایکسپلورر تقریباً 5 ارب کلومیٹر کا سفر کرکے 7 سیارچوں کا مطالعہ کرے گا۔ خلائی جہاز 6 سیارچوں کے قریب سے گزرنے کے بعد اپنے آخری ہدف 269 جسٹیٹیا تک پہنچے گا، جہاں ایک لینڈر خلائی جہاز سے الگ ہوکر خودکار طریقے سے سیارچے کی سطح پر اترے گا اور سائنسی معلومات جمع کرے گا۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ مشن سیارچوں کی ساخت، ارضیاتی خصوصیات، کثافت اور درجہ حرارت کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا اور نظام شمسی کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ جسٹیٹیا کو خاص سائنسی اہمیت حاصل ہے کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نظام شمسی کے بیرونی حصوں میں تشکیل پانے کے بعد مرکزی سیارچوں کی پٹی میں منتقل ہوا۔

شیخ حمدان کے مطابق متحدہ عرب امارات کا خلائی شعبہ اب 44 ارب درہم سے تجاوز کرچکا ہے۔ قومی خلائی حکمت عملی 2031 کے تحت ملک کا ہدف خلائی معیشت سے حاصل ہونے والے منافع کو دوگنا کرنا، اس کی اضافی قدر میں 60 فیصد اضافہ کرنا اور متحدہ عرب امارات کو دنیا کی 10 بڑی خلائی معیشتوں میں شامل کرنا ہے۔

ایم بی آر ایکسپلورر کی تیاری کا معاہدہ جنوری 2025 میں متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی اور ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ کے درمیان طے پایا تھا۔ اس کے بعد دو سال سے بھی کم عرصے میں منصوبہ ابتدائی تصور کے مرحلے سے پرواز کے لیے تیاری تک پہنچ گیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button