
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں حکام نے دو ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران منشیات اسمگلنگ کی 14 بڑی کوششیں ناکام بناتے ہوئے 300 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط کرلی ہیں۔ کارروائیوں کے دوران متعدد اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق مختلف یورپی اور ایشیائی ممالک سے بتایا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی نیشنل اینٹی نارکوٹکس ایجنسی، وفاقی اتھارٹی برائے شناخت و شہریت اور کسٹمز اینڈ پورٹس سکیورٹی نے مشترکہ کارروائیوں میں منشیات کی اسمگلنگ کی کوششوں کا سراغ لگایا اور مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ مشترکہ رپورٹ کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان مؤثر تعاون ان کارروائیوں کی کامیابی میں اہم ثابت ہوا۔
حکام کے مطابق کئی اسمگلنگ کارروائیوں میں شامل مشتبہ کھیپ متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں تک پہنچنے سے پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی میں آچکی تھی۔ حکام نے اسمگلروں کی نقل و حرکت اور کھیپ کے راستوں کا پہلے سے تعین کرتے ہوئے ان کے متحدہ عرب امارات پہنچنے سے قبل ہی کارروائی کے لیے اہلکار تعینات کردیے تھے۔
نیشنل اینٹی نارکوٹکس ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات منشیات اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جدید ڈیٹا اینالیسس ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جس کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت اور مختلف ٹرانزٹ روٹس میں غیر معمولی سرگرمیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔
ادارے کے مطابق پروازوں، مسافروں اور ٹرانزٹ کے ذریعے منتقل ہونے والی کھیپ سے متعلق بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس کی مدد سے ایسی کھیپ کی نشاندہی ممکن ہوتی ہے جس کے منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا زیادہ امکان ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح کے تعاون کے باعث مشتبہ کھیپ کو اس کے ابتدائی مقام سے متحدہ عرب امارات تک ٹریک کرنے کے ساتھ ساتھ پیشگی کارروائی بھی ممکن ہوئی، جس کے تحت منشیات کی کھیپ ملک میں داخل ہونے سے پہلے ہی اہلکاروں کو متعلقہ مقامات پر تعینات کیا گیا۔
یو اے ای کسٹمز کے مطابق ہوائی اڈوں پر جدید اسمارٹ ڈیوائسز بھی استعمال کی جارہی ہیں جو سامان اور مسافروں کے بیگز کے اندر موجود مشتبہ مواد کی تیز رفتاری اور زیادہ درستگی کے ساتھ نشاندہی کرسکتی ہیں۔ جدید سینسنگ ٹیکنالوجی سے لیس ان آلات کی مدد سے کئی صورتوں میں سامان کو دستی طور پر کھولے بغیر ہی مشتبہ مواد کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔
حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا کے تجزیے اور مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کے باعث متحدہ عرب امارات میں منشیات کی اسمگلنگ کی کوششوں کی مؤثر انداز میں روک تھام کی جارہی ہے۔







