
خلیج اردو
دبئی میں مستقبل کی نسلوں کے لیے روایتی تعلیمی نظام سے ہٹ کر نئے اور متبادل سکولنگ ماڈلز متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی گئی ہے، جبکہ کئی نئے ماڈلز اس وقت پائلٹ مرحلے میں آزمائے جا رہے ہیں۔ نالج اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سربراہ عائشہ میران کے مطابق دبئی کی قیادت چاہتی ہے کہ آنے والی نسلوں کو وہی تعلیمی نظام نہ دیا جائے جو گزشتہ نسلیں حاصل کرتی رہی ہیں۔
عائشہ میران نے بتایا کہ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم تعلیم میں جدت کی ضرورت پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق شیخ حمدان کا پیغام یہ ہے کہ مستقبل کے بچے اور پوتے پوتیاں اسی طرز کے سکولوں میں تعلیم حاصل نہ کریں جن میں موجودہ نسلیں پڑھتی رہی ہیں۔
کے ایچ ڈی اے کی سربراہ کے مطابق دبئی میں تعلیم کے مختلف نئے طریقوں اور سکولنگ کے متبادل ماڈلز پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ خاندانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مختلف راستے فراہم کیے جاسکیں۔ اتھارٹی پہلے ہی ایک جدید لائسنسنگ پالیسی کی منظوری دے چکی ہے اور اب ایسے تعلیمی ماڈلز کے عملی نفاذ کے لیے درکار شرائط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عائشہ میران نے کہا کہ دبئی خود کو ہر قسم کی جدت کے لیے ایک آزمائشی مرکز سمجھتا ہے اور مختلف تعلیمی طریقوں کو آزمانے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق چاہے الفا ماڈل ہو یا کوئی دوسرا طریقہ، اتھارٹی تعلیم کے شعبے میں جدت کا خیرمقدم کرے گی۔
الفا ماڈل میں طلبہ کی انفرادی ضروریات کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے مہارت پر مبنی تدریس کو استعمال کرتے ہوئے بنیادی مضامین کا بڑا حصہ سکول کے دن کے نسبتاً محدود وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کے ایچ ڈی اے کی سربراہ نے بتایا کہ دبئی میں چند دیگر نئے تعلیمی ماڈلز بھی تیار کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جاسکتیں کیونکہ یہ منصوبے ابھی آزمائشی مرحلے میں ہیں۔ ان کے مطابق کئی پائلٹ منصوبے جاری ہیں اور کامیاب آزمائش کے بعد انہیں وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔
تاہم عائشہ میران نے واضح کیا کہ تعلیم میں جدت کا مطلب بنیادی تعلیمی اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔ ہر نئے ماڈل کے لیے بچوں کی حفاظت، تعلیمی معیار، طلبہ کی فلاح و بہبود اور ان کی ذاتی و ذہنی نشوونما سے متعلق مقررہ شرائط پوری کرنا لازمی ہوگا۔
نئے تعلیمی ماڈلز پر غور ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب دبئی میں سکولوں میں داخلوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ رواں تعلیمی سال امارات میں 7 نئے سکول کھولے گئے ہیں جبکہ آئندہ دو برس کے لیے مزید 11 نئے سکولوں کی درخواستیں زیر غور ہیں۔
دبئی کی تعلیمی اتھارٹی صرف سکولنگ کے نئے ماڈلز پر ہی توجہ نہیں دے رہی بلکہ اساتذہ کو نظام میں برقرار رکھنے اور ان کی پیشہ ورانہ فلاح و بہبود بہتر بنانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ کے ایچ ڈی اے ایک ایسی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد اساتذہ کی حوصلہ افزائی، کام کے معیار میں بہتری اور ملازمت سے وابستگی بڑھانا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس حکمت عملی میں استاد کے پورے پیشہ ورانہ سفر کو شامل کیا جائے گا، جس میں بھرتی سے لے کر ملازمت برقرار رکھنے تک مختلف مراحل پر توجہ دی جائے گی۔ مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، اساتذہ کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی، پیشہ ورانہ مواقع اور کام اور نجی زندگی میں توازن کو اس حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
کے ایچ ڈی اے تعلیمی سال کے دوران اساتذہ کے استعفوں کو محدود کرنے کے لیے بھی ایک ممکنہ پالیسی پر غور کر رہی ہے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ اتھارٹی اس سلسلے میں ڈیٹا جمع کر رہی ہے اور جائزہ لے رہی ہے کہ تعلیمی سال کے دوران استاد کی تبدیلی سے طلبہ کو متعلقہ مضمون میں وہی سطح کی مہارت اور تدریسی تجربہ مل پاتا ہے یا نہیں۔
عائشہ میران کے مطابق اتھارٹی کی بنیادی ترجیح طالب علم ہے اور اسی لیے تعلیمی نظام کو طلبہ کی ضروریات کے گرد تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دبئی کے ماسٹر پلان میں سکولوں کی جغرافیائی تقسیم کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ والدین کو اپنے بچوں کے لیے مطلوبہ نصاب یا فیس کے مطابق سکول تلاش کرنے کے لیے طویل سفر نہ کرنا پڑے۔ منصوبے میں یہ دیکھا جائے گا کہ مختلف علاقوں میں سکولوں کی تعداد مقامی طلب کے مطابق ہے یا نہیں اور دستیاب نصاب اور فیس کی سطح ان علاقوں کے خاندانوں کی ضروریات سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔
کے ایچ ڈی اے اس مقصد کے لیے ڈویلپرز، زوننگ اتھارٹیز، دبئی میونسپلٹی اور روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ مل کر سکولوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ عائشہ میران کے مطابق اگر کسی علاقے کے خاندان ایک مخصوص فیس کی سطح پر برطانوی نصاب چاہتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ اسی علاقے میں ایسا سکول قائم کیا جائے، بجائے اس کے کہ والدین کو روزانہ 45 منٹ سے ایک گھنٹے تک سفر کرکے دوسرے علاقے میں بچوں کو سکول پہنچانا پڑے۔







