متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں 2027 تک 10 ہزار سے زائد خودکار ٹیکسیاں اور ڈیلیوری وینز چلانے کا اعلان

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں آئندہ سال 10 ہزار سے زائد خودکار ٹیکسیاں اور ڈیلیوری وینز چلانے کی تیاری کی جارہی ہے اور ان گاڑیوں کے لیے آرڈرز بھی پہلے ہی دے دیے گئے ہیں۔ یہ بات متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل فیصل البنا نے منگل کو بتائی۔

ابوظبی میں اے آئی ایوری تھنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل البنا نے کہا کہ اگلے سال متحدہ عرب امارات میں خودکار ٹرانسپورٹ کا دائرہ سیکڑوں گاڑیوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سال متحدہ عرب امارات میں صرف ایک ہزار یا پانچ ہزار نہیں بلکہ 10 ہزار سے زائد خودکار ٹیکسیاں اور ڈیلیوری وینز چل رہی ہوں گی۔ ان کے مطابق منصوبہ محض مستقبل کا روڈ میپ نہیں بلکہ ان گاڑیوں کے لیے پلیٹ فارمز کے آرڈرز پہلے ہی دیے جاچکے ہیں۔

فیصل البنا نے بتایا کہ خودکار گاڑیاں اس وقت ابوظبی اور دبئی میں محدود پیمانے پر چل رہی ہیں، جہاں اس ٹیکنالوجی کو توسیع سے قبل ٹیسٹنگ اور توثیق کے مختلف مراحل سے گزارا جاچکا ہے۔

ابوظبی اور دبئی دونوں میں خودکار ٹیکسی سروسز کا تجارتی آغاز ہوچکا ہے۔ ابوظبی نے رواں سال یاس آئی لینڈ پر لیول فور خودکار ٹیکسی سروسز میں توسیع کی، جبکہ دبئی نے ام سقیم اور جمیرہ سمیت مختلف علاقوں میں تجارتی خودکار ٹیکسی سروس شروع کی ہے۔

ابوظبی موبیلیٹی کے مطابق ابوظبی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کا پہلا شہر بھی بن چکا ہے جہاں مکمل طور پر ڈرائیور کے بغیر لیول فور گاڑیوں کی تجارتی سروس شروع کی گئی۔

فیصل البنا نے کہا کہ خودکار ٹرانسپورٹ میں توسیع متحدہ عرب امارات میں ’فزیکل اے آئی‘ کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت کو صرف سافٹ ویئر تک محدود رکھنے کے بجائے گاڑیوں، روبوٹس اور دیگر آلات کو حقیقی دنیا میں کام کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ خودکار ٹرانسپورٹ کے ساتھ روبوٹکس کے شعبے میں بھی تیزی سے توسیع کی جائے گی اور آئندہ سال متحدہ عرب امارات میں نگرانی، معائنہ اور مہمان نوازی سمیت مختلف شعبوں میں ہزاروں روبوٹس کام کرتے نظر آئیں گے۔

فیصل البنا کے مطابق آئندہ سال متحدہ عرب امارات اور بالخصوص ابوظبی کی سڑکوں، مالز، رہائشی کمپاؤنڈز اور دیگر مقامات پر روبوٹس اور خودکار وینز کی تعداد سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہوگی۔

یہ اعلانات ابوظبی میں چھ اور سات اکتوبر کو منعقد ہونے والی دو روزہ اے آئی ایوری تھنگ کانفرنس اور نمائش کے دوران سامنے آئے ہیں، جس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف منصوبوں اور مصنوعات پیش کی جارہی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button