متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا مصنوعی ذہانت کی آزادانہ جانچ اور حفاظتی نظام بنانے پر زور، حکام سے نئے طریقہ کار کا مطالبہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل فیصل البنا نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر طاقتور اے آئی ماڈلز کی آزادانہ جانچ اور حفاظتی نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔

ابوظبی میں اے آئی ایوری تھنگ کانفرنس کے دوران سی این این کی بیکی اینڈرسن سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل البنا نے کہا کہ ممالک کو یہ توقع چھوڑ دینی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ سست ہوجائے گی۔ ان کے مطابق تمام ممالک اور ادارے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز کی آزادانہ جانچ کس طرح کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی ماڈل تیار کرنے والے ادارے کو اکیلے یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے کہ اس کا تیار کردہ ماڈل محفوظ ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق آزادانہ جائزے، مشترکہ پیمانے اور ایسے حفاظتی معیارات کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہیں، بجائے اس کے کہ ایک مرتبہ قواعد بنا کر انہیں برسوں تک تبدیل نہ کیا جائے۔

فیصل البنا نے کہا کہ اے آئی کے استعمال کی نوعیت کے مطابق اس کی جانچ اور نگرانی کی سطح بھی مختلف ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ای میل لکھنے کے لیے اے آئی استعمال کرنا ایک معاملہ ہے، جبکہ ہسپتال میں علاج سے متعلق فیصلے یا ٹریفک کے نظام کو کنٹرول کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال انسانی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

انہوں نے ’خودمختار مصنوعی ذہانت‘ کے تصور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف کسی ٹیکنالوجی کی ملکیت یا دانشورانہ املاک کا مالک ہونا کافی نہیں۔ کسی ملک کو ٹیکنالوجی کو سمجھنے، اس میں تبدیلی کرنے، اس کی جانچ اور اسے اپنی ضروریات کے مطابق ترقی دینے کی صلاحیت بھی حاصل ہونی چاہیے۔

فیصل البنا کے مطابق اگر کوئی ملک کسی دوسرے ادارے کا اے آئی ماڈل کسی روبوٹ میں استعمال کرے لیکن اس کے اندرونی نظام اور حدود کو نہ سمجھتا ہو تو وہ ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات اور غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر بااختیار نہیں ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی اور مقامی اے آئی ماڈلز میں سے صرف ایک راستے کا انتخاب نہیں کررہا بلکہ بہترین بین الاقوامی بند ماڈلز استعمال کرنے کے ساتھ اپنے اوپن سورس ماڈلز بھی تیار کررہا ہے۔

فیصل البنا نے بتایا کہ ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ ’ایجنٹ گارڈ‘ نامی ایک نظام تیار کررہا ہے، جسے اے آئی ایجنٹس کے لیے اضافی حفاظتی تہہ قرار دیا گیا ہے۔ اس نظام میں ایسے فلٹرز اور حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے جو اے آئی ایجنٹس کو ایسے کام کرنے سے روکنے میں مدد دیں گے جن کی انہیں اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی حفاظتی نظام اے آئی کی تمام ممکنہ خامیوں اور غیر معمولی حالات کا احاطہ نہیں کرسکتا، تاہم حفاظتی نظام کو وقت کے ساتھ بہتر بناتے رہنا ضروری ہے۔

فیصل البنا نے بتایا کہ ابوظبی کا ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ بڑے زبان کے ماڈلز کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور مخصوص کاموں کے لیے تیار کیے جانے والے اے آئی ماڈلز پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ ان کے مطابق کاروباری اداروں کی زیادہ تر ضروریات کے لیے انتہائی بڑے ماڈلز کے بجائے مخصوص کاموں کے لیے تیار چھوٹے ماڈلز زیادہ موزوں ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی مسابقتی برتری صرف امریکا یا چین سے بڑا عمومی اے آئی ماڈل تیار کرنے میں نہیں بلکہ تیزی سے فیصلے کرنے، نئی ٹیکنالوجیز کی آزمائش اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ قوانین میں تبدیلی کی صلاحیت میں ہے۔

فیصل البنا کے مطابق اے آئی کے شعبے میں اب انتظار کی گنجائش نہیں کیونکہ ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور دنیا میں کوئی بھی اس دوڑ کے رکنے کا انتظار نہیں کرے گا۔

یہ گفتگو ابوظبی میں 6 اور 7 اکتوبر کو منعقد ہونے والی دو روزہ اے آئی ایوری تھنگ کانفرنس اور نمائش کے دوران ہوئی، جس میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button