
خلیج اردو
دبئی میونسپلٹی کی جانب سے جاری سرکلر کے مطابق دبئی کے 44 سے زائد علاقوں میں عمارتوں اور ولاز میں مشترکہ رہائش کی اجازت ہوگی۔ ان علاقوں میں السو ق الکبیر، الراس، الورقاء ون، البرشا ون، المرقبات اور الرقة شامل ہیں۔
تاہم بعض علاقوں میں مشترکہ رہائش صرف خاندانوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ ان میں بنی یاس روڈ، شیخ زاید روڈ، جمیرا روڈ اور الوصل روڈ شامل ہیں۔
گائیڈ کے مطابق مشترکہ رہائش کو دو اقسام، انفرادی اور خاندانی رہائش، میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر رہائشی یونٹ کو مشترکہ رہائش کی صرف ایک قسم کے لیے مختص کیا جائے گا اور ایک ہی یونٹ میں انفرادی اور خاندانی رہائش کو یکجا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے ضوابط کے تحت ہر فرد کے لیے بیڈروم میں کم از کم 5 مربع میٹر جگہ مختص کرنا ضروری ہوگا، جبکہ خاندانی رہائش میں ہر خاندان کے لیے علیحدہ بیڈروم اور اس کے ساتھ منسلک باتھ روم فراہم کرنا ہوگا تاکہ رہائشیوں کے آرام اور نجی زندگی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
گائیڈ میں مشترکہ سہولیات اور خدمات کے حوالے سے بھی تفصیلی تقاضے مقرر کیے گئے ہیں، جن کا تعین رہائش کی قسم اور مکینوں کی تعداد کے مطابق ہوگا۔ ان سہولیات میں کچن، سینیٹری سہولیات، کھانے، تفریح، کپڑے دھونے اور کپڑے خشک کرنے کے لیے مخصوص جگہیں شامل ہیں۔
رواں سال فروری میں جاری کیے گئے نئے قانون کے تحت مشترکہ رہائش کے لیے اجازت ناموں، لیزنگ اور حفاظتی معیارات کے حوالے سے واضح قواعد مقرر کیے گئے ہیں۔ قوانین کی خلاف ورزی پر 500 درہم سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق یہ گائیڈ عمارتوں اور تعمیراتی شعبے کے نظام کو بہتر بنانے اور متعلقہ سرگرمیوں کو منظم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کا مقصد معیار زندگی بہتر بنانے کے ساتھ رہائشی علاقوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کی رہائش، ٹریفک و ازدحام اور غیر منظم رہائشی طریقوں میں کمی لانا ہے۔
قانون کے تحت جائیداد مالکان، پراپرٹی مینجمنٹ اور لیزنگ کمپنیوں کو مشترکہ رہائش کے طور پر استعمال ہونے والی موجودہ عمارتوں کی حیثیت منظور شدہ معیارات کے مطابق درست کرنے کے لیے 8 ستمبر سے شروع ہونے والی ایک سال کی مہلت دی گئی ہے۔
دبئی میونسپلٹی نے واضح کیا ہے کہ اس مدت کے دوران عمارتوں کی دیگر خلاف ورزیوں، غیر مجاز استعمال میں تبدیلی یا عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بننے والی صورتحال کو درست کرنے کی ذمہ داری ختم نہیں ہوگی۔ ایسے تمام معاملات کو متعلقہ قوانین اور تقاضوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔







