
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات حکومت سرکاری خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار میں اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔ نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے اعلان آئندہ ماہ ایک بڑی تقریب کے دوران کیا جائے گا۔
شیخ محمد بن راشد المکتوم نے سرکاری ڈیجیٹل خدمات سے متعلق عالمی سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات سرکاری ڈیجیٹل خدمات سے صارفین کے اطمینان کی شرح میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ سروے مشاورتی ادارے بی سی جی کی جانب سے کیا گیا۔
دبئی کے حکمران کے مطابق عالمی سطح پر موجود عمومی رجحان کے برعکس متحدہ عرب امارات میں 75 فیصد سے زیادہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات نجی شعبے کی ڈیجیٹل خدمات سے بہتر ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت سرکاری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کر رہی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں خدمات کی کارکردگی اور مؤثریت بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
رواں سال کے آغاز میں شیخ محمد بن راشد نے اعلان کیا تھا کہ دو سال کے اندر متحدہ عرب امارات کی نصف سرکاری خدمات مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔
اگست میں متحدہ عرب امارات نے ایجنٹک مصنوعی ذہانت سے چلنے والی سرکاری خدمات کی تیاری کے لیے متحدہ گائیڈ بھی جاری کی تھی۔ گائیڈ میں اس بات سمیت متعدد معیارات مقرر کیے گئے ہیں کہ صارف سے پہلے فراہم کی گئی معلومات دوبارہ طلب نہ کی جائیں، ہر مرحلے سے آگاہ رکھا جائے اور رازداری و سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔
گزشتہ ماہ ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ خدمات کو آسان بنانے اور صارفین و سرکاری اہلکاروں کے لیے طریقہ کار کی تعداد کم کرنے کے لیے ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے استعمال کا جائزہ لے رہی ہے۔







