
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنے کم عمر بیٹے کی وفات کے بعد پرورش اور تربیت کے لیے ایسی وصیت تیار کروا رہی ہیں جس کے تحت بچے کے مستقبل کے سرپرست اہم فیصلے کرنے سے پہلے چیٹ جی پی ٹی سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ اس غیر معمولی تجویز کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے ماں کی اقدار، عقائد اور بچوں کی تربیت سے متعلق خواہشات کو مستقبل میں بھی فیصلوں کا حصہ بنائے رکھنا ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق اس مجوزہ دستاویز کو ’لیونگ وشز پروٹوکول‘ کا نام دیا گیا ہے، جسے ایک قانونی فرم ایکسپیٹریٹ لا نے تیار کیا ہے۔ اس کے تحت خاتون کی تحریری ہدایات اور ان کے طرزِ تربیت سے متعلق اصولوں کو ایک مخصوص مصنوعی ذہانت کے نظام، جس کی موجودہ مسودے میں چیٹ جی پی ٹی کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے، کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔ تاہم مصنوعی ذہانت کو بچے کا قانونی سرپرست مقرر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے بچے کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہوگا۔
مجوزہ وصیت کے مطابق اگر خاتون اپنے بیٹے کے کم عمر ہونے کے دوران وفات پا جاتی ہیں تو اس کے سرپرست بچے کی تعلیم، رہائش، صحت، مذہبی تربیت اور خاندان کے ساتھ تعلقات جیسے اہم معاملات میں فیصلے کرنے سے پہلے مصنوعی ذہانت سے مشورہ کرسکیں گے۔ اس مقصد کے لیے سرپرست کو خاتون کی تحریر کردہ ہدایات، ان کے عقائد، اصولوں، امیدوں اور تربیتی ترجیحات کے ساتھ متعلقہ صورتحال کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف مشاورتی کردار ادا کرے گی اور حتمی فیصلہ انسانی سرپرست ہی کریں گے۔ اسے خاتون کی شخصیت کا متبادل قرار نہیں دیا جاسکے گا اور نہ ہی یہ دعویٰ کیا جاسکے گا کہ مصنوعی ذہانت جانتی ہے کہ خاتون کسی مخصوص صورتحال میں کیا فیصلہ کرتیں۔
ایکسپیٹریٹ لا کے بائرن جیمز کے مطابق اس تجویز کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے ماں کی شخصیت کو دوبارہ تخلیق کرنا یا اس کے بیٹے کی پرورش مشین کے سپرد کرنا نہیں، بلکہ اس کی خواہشات اور رہنمائی کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ مستقبل میں بچے کی تربیت کرنے والے افراد کو صرف ایک روایتی تحریری خط پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ان کے مطابق والدین اگلے 10 سے 15 سال کے دوران پیش آنے والے ہر ممکنہ معاملے کی پیش گوئی نہیں کرسکتے، اس لیے ان کی اقدار کو مستقبل کے فیصلوں سے جوڑنے کا طریقہ تلاش کیا جا رہا ہے۔
مجوزہ پروٹوکول میں بچے کی تعلیم یا سکول تبدیل کرنے، رہائش کے لیے ملک یا شہر کے انتخاب، غیر ہنگامی طبی یا نفسیاتی علاج، مذہبی تربیت اور ماں کے خاندان سے رابطے جیسے معاملات شامل ہیں۔ تاہم سرپرستوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماں کی خواہشات کے ساتھ بچے کی اپنی رائے، احساسات اور فلاح و بہبود کو بھی مدنظر رکھیں۔ بچے کی عمر بڑھنے اور اپنی رائے بہتر انداز میں بیان کرنے کے قابل ہونے کے ساتھ اس کی خواہشات کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔
مسودے کے مطابق بچے کی 18 سال کی عمر تک ہر سال اس کی تعلیم، صحت، خوشی، دوستیوں، دلچسپیوں اور بدلتی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔ جب بچہ اس قابل ہوگا تو اسے بھی ان جائزوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک انسانی مشیر کم از کم سال میں ایک مرتبہ پروٹوکول کا جائزہ لے گا تاکہ بچے کی نجی زندگی، بڑھتی خودمختاری اور فلاح و بہبود کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
مجوزہ نظام ہنگامی حالات میں لاگو نہیں ہوگا، خصوصاً ایسے فیصلوں میں جن کا تعلق بچے کی جان، صحت یا حفاظت کو فوری خطرے سے بچانے سے ہو۔ یہ پروٹوکول کسی قانون یا عدالتی حکم کے خلاف اقدام کی اجازت بھی نہیں دے سکے گا۔ سرپرستوں کو مصنوعی ذہانت سے ہونے والی اہم مشاورت، موصول ہونے والے جوابات اور کیے گئے فیصلوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا۔ اگر سرپرست مصنوعی ذہانت کی تجویز سے اختلاف کرتے ہیں تو انہیں اس کی وجوہات بھی درج کرنا ہوں گی۔
اس تجویز کے حوالے سے بچے کی نجی معلومات کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ بائرن جیمز کے مطابق ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ خاتون کی ہدایات کو کس طرح محفوظ کیا جائے گا، ان تک رسائی کس کو حاصل ہوگی اور مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنی کے ساتھ کون سی معلومات شیئر کی جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے کی ذاتی زندگی سے متعلق حساس معلومات کو غیر ضروری طور پر کسی تجارتی مصنوعی ذہانت کے نظام پر اپ لوڈ نہیں کیا جانا چاہیے۔ بچے کی رازداری، فلاح و بہبود اور مستقبل میں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت کو ترجیح حاصل رہنی چاہیے۔
یہ مسودہ تاحال ابوظہبی کے محکمہ عدلیہ میں رجسٹر یا کسی عدالت سے منظور نہیں ہوا۔ قانونی فرم کے مطابق اس نوعیت کی تمام دفعات پر مشتمل پہلے سے رجسٹرڈ وصیت کے بارے میں انہیں علم نہیں، تاہم انہوں نے اسے دنیا کی پہلی ایسی وصیت قرار دینے کا دعویٰ بھی نہیں کیا۔ دستاویز میں رجسٹریشن نمبر اور تصدیق کی تفصیلات بھی درج نہیں ہیں اور قانونی جائزے کے بعد اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
یہ تجویز اس سوال کو نمایاں کرتی ہے کہ والدین اپنی وفات کے بعد بچوں کی تربیت میں اپنی اقدار اور خواہشات کا کردار کس حد تک برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس مجوزہ طریقہ کار میں مصنوعی ذہانت کو انسانی سرپرستی کا متبادل بنانے کے بجائے مشیر کے طور پر شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ قانونی اختیار، بچے کی فلاح و بہبود اور اس کی اپنی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل رہے گی۔







