
خلیج اردو
دبئی پولیس نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ آن لائن تنقید اس وقت قانونی حدود سے تجاوز کرسکتی ہے جب تبصروں کے ذریعے کسی شخص یا کاروبار کی ساکھ کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے۔ دبئی پولیس کے سوشل میڈیا جرائم کے شعبے کے سربراہ میجر یاسر جمعہ محمد نے کہا ہے کہ لوگوں کو آن لائن اپنی رائے دینے کی آزادی حاصل ہے، تاہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو دوسروں کے مفادات اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دبئی پولیس پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے میجر یاسر نے ایک واقعے کا حوالہ دیا جس میں گوگل میپس پر ایک کمپنی کے خلاف مبینہ طور پر جعلی منفی تبصرے کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق کمپنی کی انتظامیہ نے شکایت درج کرائی تھی کہ مسلسل منفی جائزوں سے کاروبار متاثر ہورہا ہے۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ متعدد تجارتی دکانوں نے مبینہ طور پر گروپ بنا کر کمپنی کے خلاف جھوٹے تبصرے پوسٹ کیے، جس سے اسے مالی نقصان پہنچا۔ دبئی پولیس نے ان اکاؤنٹس کی تحقیقات، صارفین کی شناخت اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیم تشکیل دی۔ میجر یاسر کے مطابق مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔
میجر یاسر نے وضاحت کی کہ آن لائن تبصرے اس وقت قانونی جواب دہی کا سبب بن سکتے ہیں جب وہ محض رائے کے اظہار کے بجائے توہین یا ہتک عزت کی شکل اختیار کرلیں۔ سائبر جرائم میں سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے توہین، دھمکیاں، افواہیں پھیلانا، الیکٹرانک فراڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے صارفین پر زور دیا کہ وہ دوسروں کے حقوق کا احترام کریں اور ایسا مواد شائع کرنے سے گریز کریں جو انہیں قانونی کارروائی سے دوچار کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس استعمال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صارف اپنی شناخت چھپا کر قانونی کارروائی سے بچ سکتا ہے۔ پولیس اہلکار ایسے اکاؤنٹس کی تحقیقات اور ان کے پیچھے موجود افراد کی شناخت کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔
کاروبار کے خلاف آن لائن تنقید کے حوالے سے میجر یاسر نے کہا کہ کسی کمپنی کے بارے میں حقیقی تجربے کی بنیاد پر جائزہ دینا اور جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹے تبصرے پوسٹ کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ کیس کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملوث افراد نے کمپنی کے بارے میں تبصرے کیے تھے، حالانکہ وہ اس کے دفاتر یا کاروباری مقام پر گئے ہی نہیں تھے۔
دبئی پولیس نے افواہیں پھیلانے کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔ میجر یاسر کے مطابق قانونی جواب دہی صرف افواہ اصل میں شائع کرنے والے شخص تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اسے آگے پھیلانے والے افراد بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔ انہوں نے صارفین کو ہدایت کی کہ کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں اور سرکاری حکام یا قابل اعتماد ذرائع پر انحصار کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ معلومات بھی وقت گزرنے کے ساتھ غیر مؤثر یا پرانی ہوسکتی ہیں، کیونکہ قواعد اور حالات تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے پرانی معلومات کی تازہ صورت حال کی تصدیق کیے بغیر دوبارہ تشہیر کرنا مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
ہنگامی حالات اور بحرانوں کے دوران دبئی پولیس نے شہریوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور غیر مصدقہ تصاویر یا ویڈیوز پھیلانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ ایسی پوسٹس افواہوں کو ہوا دینے اور معاشرتی تحفظ کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ آن لائن فراڈ کے نئے طریقوں اور ڈیجیٹل خطرات سے متعلق آگاہی کے لیے شہری دبئی پولیس کے ای کرائم ہب سے بھی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔
Dubai Police Warns Against Online Comments That Harm Others’ Reputations







