متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں چھوٹے کاروباروں کے لیے 10 ہزار درہم سے قرضوں کی سہولت متعارف

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں چھوٹے کاروباروں کے لیے 10 ہزار درہم سے 5 لاکھ درہم تک قرض حاصل کرنے کی ڈیجیٹل سہولت متعارف کرادی گئی ہے۔ بوٹم نے منگل کو چھوٹے اور انتہائی چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کی نئی سروس شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت حاصل ہونے والی رقم کاروباری اخراجات، ملازمین کی تنخواہوں، آلات کی خریداری اور کاروبار کو وسعت دینے کے لیے استعمال کی جاسکے گی۔ قرض کی واپسی کے لیے زیادہ سے زیادہ 12 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

بوٹم بزنس ایس ایم ای لینڈنگ کے نام سے شروع کی گئی یہ سہولت مالیاتی ٹیکنالوجی اور ادائیگیوں کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی جیدیا کے اشتراک سے متعارف کرائی گئی ہے۔ جیدیا اپنے متحدہ عرب امارات کے نیٹ ورک میں شامل اہل کاروباری صارفین کو بھی اس سہولت تک رسائی دے گی۔ ابتدائی مرحلے میں جیدیا، بوٹم اور ان کے دیگر شراکت داروں کے ذریعے 30 ہزار سے زائد کاروباری اداروں تک اس سہولت کی رسائی متوقع ہے۔

یہ قرضے محدود ذمہ داری والی کمپنیوں اور انفرادی ملکیت کے تحت چلنے والے چھوٹے کاروباروں کے لیے دستیاب ہوں گے۔ کمپنیوں کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کاروباری لین دین، نقد رقم کی آمدورفت اور قرضوں کی ادائیگی سے متعلق سابقہ رویے کا جائزہ لے کر خطرات کا تعین کرے گا۔ یہ معلومات صارفین کی رجسٹریشن کے دوران یا دستیابی کی صورت میں شراکت دار اداروں کے ذریعے حاصل کی جائیں گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے قرض کے لیے اہلیت کی جانچ تیزی سے ممکن ہوگی اور ہر کاروبار کی مالی صورت حال اور نقد رقم کی ضروریات کے مطابق قرض کی رقم متعین کرنے میں مدد ملے گی۔

اعلامیے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں چھوٹے کاروبار ملکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ یہ ملک کے مجموعی کاروباری اداروں کا تقریباً 94 فیصد ہیں اور تیل کے علاوہ دیگر شعبوں کی مجموعی قومی پیداوار میں ان کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم، سخت شرائط اور درخواستوں کی طویل کارروائی کے باعث متعدد چھوٹے کاروباروں کو بروقت سرمایہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

بوٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طارق بن ہندی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں انتہائی چھوٹے کاروباری اداروں کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے، جبکہ ان میں سے بہت سے کاروباری مالکان پہلی مرتبہ باضابطہ مالیاتی نظام کے ذریعے قرض حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کا مقصد کاروبار چلانے کے حقیقی تقاضوں کے مطابق مالیاتی سہولت فراہم کرنا اور غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنا ہے تاکہ کاروباری مالکان درکار سرمایہ حاصل کرکے اپنے کاروبار کی ترقی پر توجہ دے سکیں۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 2030 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی تعداد 10 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور بوٹم ٹیکنالوجی کے ذریعے اس مقصد کی حمایت کرنا چاہتا ہے۔

جیدیا متحدہ عرب امارات کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پنکج کندرا نے کہا کہ اس شراکت داری سے کاروباری صارفین کو ادائیگیوں اور مالی معاونت کی زیادہ مربوط اور آسان سہولت میسر آئے گی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری، توسیع اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے درکار مالی وسائل تک رسائی میں مدد ملے گی۔

UAE Small Businesses Can Now Borrow from Dh10,000 via Botim

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button