
خلیج اردو
ابوظبی میں سائنس دانوں نے گندے پانی کی نگرانی کے نظام کے ذریعے کینڈیڈا اورس نامی فنگس کی ایک نایاب جینیاتی قسم دریافت کرکے الگ کرلی ہے، جو متعدد اینٹی فنگل ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جرثوموں میں شامل ہے۔ یہ پیش رفت ابوظبی کوالٹی اینڈ کونفارمٹی کونسل کی مرکزی ٹیسٹنگ لیبارٹری کے شعبے راسد اور مصنوعی ذہانت و صحت کی ٹیکنالوجی سے وابستہ ادارے ایم 42 کے اشتراک سے سامنے آئی ہے۔
کینڈیڈا اورس ایک فنگس ہے جس نے دنیا بھر میں طبی ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ یہ مختلف اینٹی فنگل ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرسکتی ہے اور بعض طبی مراکز میں اس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے فنگس کے ان جرثوموں میں شامل کیا ہے جنہیں انتہائی اہم ترجیحی گروپ میں رکھا گیا ہے۔
طبی جریدے کمیونیکیشنز میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق گندے پانی کی ماحولیاتی نگرانی کے ذریعے کینڈیڈا اورس کی کلاڈ 6 قسم کی علاقائی سطح پر پہلی معلوم شناخت کی گئی ہے۔ محققین کے مطابق تحقیق کے وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ دریافت اس فنگس کے جینیاتی تنوع اور ابھرتے ہوئے صحت کے خطرات کو سمجھنے میں مدد دے گی۔
تحقیق کے لیے 23 ہزار سے زائد گندے پانی کے نمونوں کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا۔
محققین نے صرف فنگس کے جینیاتی آثار کی نشاندہی نہیں کی بلکہ اسے براہ راست گندے پانی سے الگ کرکے لیبارٹری میں اس کی شناخت کی تصدیق بھی کی۔ اس عمل کے ذریعے فنگس کی مختلف جینیاتی اقسام کی نشاندہی کی گئی، جن میں کلاڈ 6 بھی شامل ہے۔
سائنسی طریقہ کار میں فنگس کے نمونوں کی شناخت، مکمل جینوم سیکوینسنگ، جینیاتی اور ارتقائی تجزیے، اینٹی فنگل ادویات کے خلاف حساسیت کی جانچ اور مزاحمت سے وابستہ جینیاتی علامات کا جائزہ شامل تھا۔ تجزیوں میں بعض اینٹی فنگل ادویات کے خلاف مزاحمت سے متعلق جینیاتی علامات اور مختلف مزاحمتی رجحانات بھی سامنے آئے۔
راشد کی ڈائریکٹر سمارہ بن سالم نے کہا کہ اس کامیابی کی سائنسی اہمیت یہ ہے کہ ماحولیاتی نگرانی کے ذریعے صحت سے متعلق ابھرتے ہوئے اشاریوں اور ادویات کے خلاف مزاحمت کے رجحانات کی نشاندہی کرکے انہیں قابل مطالعہ معلومات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری میں فنگس کو الگ کرنے، مکمل جینوم سیکوینسنگ اور اینٹی فنگل ادویات کے خلاف حساسیت کی جانچ کو یکجا کرنے سے کلاڈ 6 کی شناخت اور اس کی جینیاتی خصوصیات و مزاحمتی رجحانات کو زیادہ درست طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔ ان کے مطابق راشد ایسا سائنسی نگرانی کا نظام تیار کرنا چاہتا ہے جو صرف نمونوں میں موجود جرثوموں کی شناخت تک محدود نہ رہے بلکہ آبادی کی سطح پر تبدیلیوں اور ممکنہ خطرات کا بھی جائزہ لے سکے۔
تحقیق میں شامل ایم 42 کے سینئر مائیکرو بایولوجسٹ اور لیبارٹری مینیجر ڈاکٹر بھونیش شانموگم نے کہا کہ کلاڈ 6 کی شناخت سے کینڈیڈا اورس کے جینیاتی تنوع اور طبی مراکز سے باہر اس کی موجودگی کے بارے میں سائنسی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق جینیاتی معلومات کو ادویات کے خلاف حساسیت کے نتائج کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے مزاحمت کے عوامل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ایم 42 کے شعبہ ماحولیاتی علوم کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر گریگورز برودیکی نے کہا کہ مسلسل نگرانی سے وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں، نئے رجحانات اور غیر معمولی اشاروں کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔ جدید جینیاتی تجزیوں کے ساتھ ماحولیاتی ڈیٹا کا جائزہ لینے سے یہ طے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کون سی تبدیلیاں معمول کے مطابق ہیں اور کن کی مزید تحقیق ضروری ہے۔
تحقیق کی اہم محققین میں شامل سمیہ المنصوری نے کہا کہ نمونوں کی مسلسل نگرانی، فنگس کو الگ کرنے، مکمل جینوم سیکوینسنگ اور اینٹی فنگل ادویات کے خلاف حساسیت کی جانچ کو یکجا کرنے سے فنگس کی جینیاتی درجہ بندی اور مزاحمت کے رجحانات کی زیادہ درست شناخت ممکن ہوئی۔
تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندے پانی کی نگرانی صحت کے روایتی اور طبی نگرانی کے نظام کی معاونت کرسکتی ہے۔ اس طریقے سے جرثوموں، اینٹی مائیکروبیل مزاحمت اور ممکنہ طور پر ابھرتے ہوئے صحت کے خطرات سے متعلق معلومات حاصل کرکے بروقت تیاری اور پیشگی اقدامات میں مدد لی جاسکتی ہے۔







