متحدہ عرب امارات

دبئی کا 2027 کے لیے نئی حکمت عملی پر کام، زیادہ خرچ کرنے والے سیاحوں، طویل مدتی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو متوجہ کرنے کا فیصلہ

خلیج اردو
دبئی نے 2027 کے لیے سیاحت اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں سیاحوں کی تعداد کے بجائے ان کے معیار پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امارت اب ایسے سیاحوں کو متوجہ کرنا چاہتی ہے جو زیادہ خرچ کریں، بار بار دبئی آئیں اور مستقبل میں یہاں مستقل رہائش اختیار کرنے، کاروبار قائم کرنے یا سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیں۔ دبئی کارپوریشن فار ٹورازم اینڈ کامرس مارکیٹنگ کے چیف ایگزیکٹو عیسیٰ کاظم کے مطابق مقصد ایسے افراد کو راغب کرنا ہے جو دبئی میں طویل مدتی مواقع دیکھتے ہیں اور اس کی معیشت میں مسلسل کردار ادا کرسکتے ہیں۔

عیسیٰ کاظم نے دبئی کی سیاحت اور اقتصادی مستقبل سے متعلق گفتگو میں کہا کہ اصل اہمیت سیاحوں کی تعداد سے زیادہ ان کے معیار کی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 25 فیصد سیاح 12 ماہ کے اندر دوبارہ دبئی آتے ہیں، جو مستقل سیاحوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی اب صرف تفریحی مقام نہیں بلکہ ایسا شہر بن چکا ہے جہاں لوگ اپنے کیریئر کا آغاز کرسکتے ہیں، کاروبار قائم کرسکتے ہیں اور خاندان کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔

دبئی کی نئی حکمت عملی روایتی تشہیری مہمات، مشہور شخصیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز تک محدود نہیں رہے گی۔ عیسیٰ کاظم کے مطابق امارت اب زیادہ توجہ دولت مند افراد، فیملی آفسز اور بین الاقوامی کاروباری برادریوں سے براہ راست روابط قائم کرنے پر دے رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی تقریبات، تعلقات عامہ اور محدود مگر ہدف پر مبنی ملاقاتوں کو اہمیت دی جارہی ہے، تاکہ دبئی سے پہلے ہی وابستہ افراد اپنے تجربات دوسروں تک پہنچائیں اور انہیں یہاں دستیاب مواقع سے آگاہ کریں۔

علاقائی کشیدگی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے عیسیٰ کاظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے رہائشیوں کو محفوظ محسوس کرانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق تحفظ کے ساتھ عوامی اعتماد بھی ضروری ہے، تاکہ لوگ ملک میں رہنے، کاروبار کرنے اور طویل مدتی منصوبہ بندی جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں کی بحالی اور کرائے کی رہائش کے معاہدوں میں سرگرمی اعتماد کی واپسی کے اشارے ہیں۔ ان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں سکول دوبارہ کھلنے پر 4 لاکھ سے زائد نئے طلبہ کی رجسٹریشن ہوئی، جبکہ نئے کھلنے والے سکولوں میں تقریباً 17 ہزار اضافی نشستیں فراہم کی گئیں۔ اس دوران تقریباً 3 لاکھ نئے ایجاری کرایہ نامے بھی رجسٹر ہوئے۔

دبئی کے ہوٹلنگ سیکٹر میں بھی توسیع اور موجودہ عمارتوں کی تزئین و آرائش کا سلسلہ جاری ہے۔ عیسیٰ کاظم کے مطابق نجی شعبے نے علاقائی صورت حال سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران منصوبوں پر کام تیز کیا اور موجودہ سہولیات بہتر بنانے کے مواقع سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ دبئی آنے والے سیاحوں کی توقعات پوری کرنے کے لیے ہوٹلوں کے معیار اور خدمات کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی ہوٹل گروپس کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی دبئی کی مارکیٹ پر ان کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں۔ سرمایہ کاری میں نئے ہوٹلوں کی تعمیر کے ساتھ موجودہ جائیدادوں کی تزئین و آرائش بھی شامل ہے۔

سیاحت کے علاوہ دبئی لاجسٹکس، مینوفیکچرنگ، مالیاتی خدمات اور بین الاقوامی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر کے قیام پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ عیسیٰ کاظم نے کہا کہ دبئی ورلڈ کے ساتھ تعاون کے ذریعے لاجسٹکس کے شعبے کو معیشت کا اہم ستون بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق کمپنیاں دبئی میں کاروبار قائم کرتے وقت صرف مقامی آبادی کو نہیں دیکھتیں بلکہ اس کے جغرافیائی محل وقوع اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ دبئی سے نسبتاً مختصر فضائی سفر کے ذریعے دنیا کی بڑی آبادی اور مختلف بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچنا ممکن ہے، جو اسے کاروباری سرگرمیوں کے لیے اہم مقام بناتا ہے۔

دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں ممکنہ طور پر ایک ہی عرصے میں بڑی تعداد میں نئے منصوبے مکمل ہونے سے رسد بڑھنے کے خدشات پر بھی گفتگو ہوئی۔ عیسیٰ کاظم نے کہا کہ ماضی میں بھی دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کے حوالے سے ضرورت سے زیادہ تعمیرات کے خدشات سامنے آئے، تاہم بعد میں طلب میں اضافے، دستیابی محدود ہونے اور قیمتیں بڑھنے کے ادوار بھی دیکھے گئے۔ ان کے مطابق دبئی میں تعمیرات محض اندازوں کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی کے تحت کی جاتی ہیں۔ حکومت نجی شعبے سے مشاورت اور کاروباری اداروں کے ساتھ مسلسل ملاقاتوں کے ذریعے مارکیٹ کے مسائل کو سمجھتی اور منصوبہ بندی کرتی ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button