
خلیج اردو
فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر تفصیلات جاری کرنے کے بجائے معلومات کی تصدیق، متعدد ممالک کے حکام سے رابطوں اور جاری تحقیقات کے تحفظ کو ترجیح دی۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں کے پھیلاؤ کے باعث کسی بھی سرکاری بیان سے پہلے حقائق کی مکمل تصدیق ضروری تھی۔
دبئی میں یو اے ای کوریسپونڈنٹس مجلس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل میڈیا اتھارٹی کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بُطی الحامد نے کہا کہ واقعے کے روز ہی مختلف افراد اور اداروں نے ناموں سمیت متعدد تفصیلات شائع کرنا شروع کردی تھیں، تاہم اماراتی حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ جاری کی جانے والی معلومات سو فیصد درست ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری بیان کی اہمیت اور اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر مصدقہ معلومات جاری نہیں کی جاسکتی تھیں۔ کسی شخص کی شناخت یا واقعے سے متعلق تفصیلات قبل از وقت سامنے لانے سے نہ صرف غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے بلکہ تحقیقات اور قانونی کارروائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
حکام کے مطابق 30 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کے بعد فلائی دبئی نے ابتدائی طور پر تصدیق کی تھی کہ طیارہ واقعے کے بعد سعودی عرب میں بحفاظت اتر گیا ہے۔ بعد ازاں اسی روز متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ یہ سکیورٹی سے متعلق واقعہ تھا جس میں عملے کے ارکان زخمی ہوئے تھے۔
تین روز بعد یو اے ای کے اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ طیارے کے شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر دہشت گردانہ کارروائی کرنے کی کوشش کی تھی۔ 9 اکتوبر کو سامنے آنے والی مزید تحقیقاتی تفصیلات میں بتایا گیا کہ اس نے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کو خودکش حملے کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
فیڈرل نیشنل کونسل کی دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے بھی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی نوعیت کے باعث مختلف ممالک کے درمیان رابطہ کاری ایک حساس معاملہ تھا۔ طیارہ اماراتی ایئرلائن کا تھا، سعودی عرب میں اترا تھا اور اس میں سوار زیادہ تر مسافر اسرائیلی تھے، اس لیے مسافروں کی حفاظت اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطوں کو اولین ترجیح دی گئی۔
ڈاکٹر النعیمی کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حقائق جاننے کے لیے ایک ٹیم سعودی عرب بھیجی، جس نے مسافروں، سعودی حکام اور پائلٹ سے براہ راست معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام ایسی معلومات جاری نہیں کرسکتے تھے جن کی انہیں خود تصدیق نہ ہو۔ چونکہ واقعہ سعودی سرزمین پر پیش آیا تھا، اس لیے سعودی عرب کے قانونی دائرہ اختیار کا احترام بھی ضروری تھا۔
عبداللہ بن محمد بن بُطی الحامد نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور بعض ذرائع ابلاغ پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک ویڈیو کو غلط طور پر متعلقہ طیارے کی فوٹیج قرار دیا گیا تھا، حالانکہ اس میں طیارہ سمندر کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دے رہا تھا جبکہ اصل واقعہ خشکی کے اوپر پیش آیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب واقعہ خشکی پر پیش آیا تو ویڈیو میں سمندر کہاں سے آگیا؟
اماراتی حکام کے مطابق اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حساس واقعات کے دوران غیر مصدقہ ویڈیوز، قیاس آرائیوں اور غلط معلومات کی تیزی سے تشہیر تحقیقات کو متاثر کرسکتی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ خبر جلد جاری کرنے سے زیادہ اہم یہ یقینی بنانا ہے کہ عوام تک درست معلومات پہنچیں۔







