متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید حملے کیے گئے تو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مزید حملے کیے گئے تو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، جواب دینے کے تمام آپشنز کھلے ہیں۔ اماراتی عہدیدار نے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں ہر ممکن ردعمل زیر غور آسکتا ہے۔

دبئی میں یو اے ای کوریسپونڈنٹس مجلس سے خطاب کرتے ہوئے فیڈرل نیشنل کونسل کی دفاع، داخلہ اور خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر علی راشد النعیمی سے سوال کیا گیا کہ اگر ایران دوبارہ حملہ کرتا ہے تو کیا متحدہ عرب امارات بھی جواب دے گا؟ اس پر انہوں نے مختصر جواب دیا کہ تمام آپشنز موجود ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کئی ماہ سے کشیدگی برقرار ہے۔ متحدہ عرب امارات متعدد بار ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے حق پر زور دے چکا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق فروری کے آخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے، بشمول ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور رہائشی علاقوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے 31 اگست کو جاری بیان کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ملک کی سمندری حدود کے اوپر ایک ایرانی ڈرون کو روک لیا تھا۔ وزارت نے اس واقعے کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ قومی سلامتی اور خودمختاری کے لیے خطرات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر علی راشد النعیمی نے ایران کے ساتھ تنازع کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ یہ جنگ روس اور یوکرین کی جنگ کی طرح کئی سال تک جاری رہے گی۔ ان کے خیال میں تنازع 2026 کے اختتام سے پہلے ختم ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایک اور مکمل جنگ کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی صورتحال کا انحصار ایرانی قیادت کے اقدامات، اس کے وعدوں اور اپنے عوام کے لیے اس کے تصور پر ہوگا۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ابتدا ہی سے سیاسی حل کو ترجیح دی اور سفارتی رابطوں کے ساتھ علاقائی ممالک کو بحران کے حل میں زیادہ مؤثر کردار دینے کی حمایت کی۔

ڈاکٹر النعیمی کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی متحدہ عرب امارات نے کشیدگی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کی تھیں۔ جنوری میں امارات نے واضح کیا تھا کہ اس کی فضائی حدود، سرزمین اور سمندری حدود ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوں گی اور نہ ہی ایسی کارروائیوں کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کے باوجود 28 فروری کو تنازع شروع ہوگیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کا مؤقف ہے کہ وہ اس جنگ کا فریق نہیں اور کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کا حامی ہے۔

ایران کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کی بحالی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر النعیمی نے کہا کہ محض مذاکرات دوبارہ شروع کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے حقیقی تبدیلی اور ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی نظام کی ساخت میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے تبدیلی کا عمل جاری ہے اور ایرانی قیادت کو اپنے اقدامات کے نتائج کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات صرف ایران، امریکا اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا محسوس کررہی ہے، اس لیے تہران کے طرزعمل میں تبدیلی اہم ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت اور ایرانی عوام کے درمیان فرق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام بہتر زندگی اور روشن مستقبل کے مستحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرکے عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینی چاہیے اور ان کی مشکلات ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button