
خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے آٹھویں ماہ میں امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے منصوبے تیار کرلیے ہیں، جن میں جی بی یو 43 بی بم کے استعمال کا آپشن بھی شامل ہے۔ سی این این کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دیے جانے کی صورت میں یہ بم ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل عندیہ دے چکے ہیں کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کی مقبولیت میں کمی ری پبلکن پارٹی کے انتخابی امکانات کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مدر آف آل بمز کے استعمال کی دھمکی ایران پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے، جبکہ بعض ماہرین اس کی مدد سے زمین کی گہرائی میں موجود ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
مدر آف آل بمز کیا ہے؟
مدر آف آل بمز، جسے باضابطہ طور پر جی بی یو 43 بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ کہا جاتا ہے، امریکی فوج کے سب سے طاقتور غیر جوہری ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جی پی ایس سے رہنمائی حاصل کرنے والا بم ہے، جسے بڑے رقبے پر تباہی پھیلانے اور غاروں، سرنگوں اور زیر زمین تنصیبات کے بعض حصوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس کی تباہ کاریوں کا دائرہ تقریباً نو شہری بلاکس کے برابر بتایا جاتا ہے۔
اس بم کا وزن تقریباً 21 ہزار 600 پاؤنڈ، یعنی 9.8 ٹن ہے، جبکہ اس کی لمبائی تقریباً 30 فٹ یا 9.1 میٹر ہے۔ اس میں موجود دھماکا خیز مواد کا وزن تقریباً 18 ہزار 700 پاؤنڈ، یعنی 8.5 ٹن بتایا جاتا ہے۔ اسے عام لڑاکا طیارے کے بجائے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے سے گرایا جاتا ہے۔
یہ بم عراق جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا اور اسے فضائی دھماکے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ زمین سے ٹکرانے سے پہلے فضا میں پھٹتا ہے، جس سے دھماکے کی شدت وسیع علاقے میں پھیلتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسے 2003 کی عراق جنگ کے لیے تیار کرنے کا عمل صرف نو ہفتوں میں مکمل کیا گیا تھا۔
اگرچہ مدر آف آل بمز امریکی ذخیرے کے سب سے بڑے غیر جوہری ہتھیاروں میں شامل ہے، لیکن یہ سب سے بھاری بم نہیں۔ جی بی یو 57 میسیو آرڈیننس پینیٹریٹر، جسے بنکر بسٹر بھی کہا جاتا ہے، تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ وزنی ہے۔ تاہم اس کے وارہیڈ میں دھماکا خیز مواد کا وزن تقریباً 5 ہزار 300 پاؤنڈ ہے، جو مدر آف آل بمز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ بنکر بسٹر کو مضبوط اور گہری زیر زمین تنصیبات میں داخل ہوکر انہیں نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
مدر آف آل بمز پہلی بار کب استعمال ہوا؟
امریکی فوج نے مدر آف آل بمز پہلی مرتبہ اپریل 2017 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران افغانستان میں جنگی کارروائی میں استعمال کیا تھا۔ امریکی فضائیہ کی اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے ایم سی 130 طیارے سے یہ بم صوبہ ننگرہار کے ضلع اچین میں داعش کے زیر استعمال سرنگوں کے ایک کمپلیکس پر گرایا گیا تھا۔
یہ کارروائی مقامی وقت کے مطابق شام 7 بج کر 32 منٹ پر کی گئی تھی۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے میں داعش کے 92 جنگجو ہلاک ہوئے، تاہم اس تعداد کو رپورٹ شدہ دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایران کے خلاف اس بم کے ممکنہ استعمال سے متعلق امریکی منصوبے سامنے آنے کے بعد اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا اتنا بڑا روایتی ہتھیار گہری زیر زمین جوہری تنصیبات کو مؤثر طور پر تباہ کرسکتا ہے یا اس کا بنیادی مقصد ایران پر فوجی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہوگا۔







