
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں بچوں کی حفاظت کے ادارے نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن زبان، سوشل میڈیا کے رجحانات، ایموجیز اور انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی نئی اصطلاحات کو سمجھیں تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کی جاسکے۔ ادارے کے مطابق بچوں کی آن لائن گفتگو میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ اور علامات بظاہر بے ضرر دکھائی دیتے ہیں، لیکن مخصوص حالات میں ان کے معنی جنسی اشاروں، ہراسانی یا امتیازی رویوں سے بھی جڑے ہوسکتے ہیں۔
ایس وائی بی اے یو، گیٹ اور سکبڈی جیسی اصطلاحات نوجوانوں میں انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی تیزی سے بدلتی زبان کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کئی الفاظ محض تفریح یا مزاح کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تاہم ان کا مطلب گفتگو کے سیاق و سباق اور استعمال کے انداز کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ اسی لیے والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی لفظ یا ایموجی کو دیکھ کر فوری نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسے کس موقع پر اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے جنوری 2026 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سات سال اور اس سے زیادہ عمر کے 97 فیصد بچے باقاعدگی سے ڈیجیٹل آلات استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہر تین میں سے ایک بچے سے انٹرنیٹ پر کسی اجنبی نے رابطہ کیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے تناظر میں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں اور ان سے وابستہ خطرات پر والدین کی توجہ کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینے کی غرض سے چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون متعارف کرایا ہے اور چار ہزار سے زیادہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نگرانی بھی مضبوط بنائی ہے۔ حکام کے مطابق قوانین اور پلیٹ فارمز کی نگرانی کے ساتھ والدین کی آگاہی بھی بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بچوں کی حفاظت کے ادارے نے والدین اور سرپرستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بارے میں معلومات حاصل کریں جنہیں ان کے بچے استعمال کرتے ہیں، وہاں دیکھی جانے والی ویڈیوز اور دیگر مواد پر توجہ دیں اور یہ بھی جانیں کہ بچے کن افراد سے رابطے میں رہتے ہیں۔ والدین کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ الیکٹرانک گیمز کی عمر سے متعلق درجہ بندی باقاعدگی سے چیک کریں تاکہ کھیل بچوں کی عمر اور ذہنی نشوونما کے مطابق ہوں۔
ادارے کے مطابق اگر والدین کو بچوں کی گفتگو میں کوئی نامانوس لفظ یا علامت نظر آئے تو انہیں فوری طور پر منفی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے بچوں سے اس کا مطلب پوچھنا چاہیے۔ کسی ایک اصطلاح یا ایموجی کا استعمال بذات خود خطرے کی علامت نہیں، تاہم بعض اوقات اس سے ایسی گفتگو کا پتا چل سکتا ہے جس میں ہراسانی، ذہنی دباؤ، کسی کو خفیہ بات رکھنے پر مجبور کرنا یا نامناسب مطالبات شامل ہوں۔
والدین کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ان کے آن لائن تجربات پر باقاعدگی سے اور کھل کر بات کریں، تاکہ بچے کسی پریشان کن پیغام یا نامناسب رابطے کی صورت میں بلا جھجھک بڑوں سے مدد لے سکیں۔ ڈیجیٹل تحفظ کو صرف موبائل فون کی جانچ یا اسکرین ٹائم محدود کرنے تک نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے خاندانی زندگی میں مسلسل گفتگو کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
بچوں کی حفاظت کے ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ہنادی صالح الیافعی نے کہا کہ بچوں کو ان خطرات سے محفوظ نہیں رکھا جاسکتا جنہیں والدین پہچانتے ہی نہ ہوں، اور بچوں کی ڈیجیٹل دنیا کو سمجھے بغیر ان خطرات کی شناخت ممکن نہیں۔ ان کے مطابق والدین کو بچوں کی آن لائن زبان سیکھنے اور ان کے ڈیجیٹل تجربات کو سمجھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، چاہے وہاں استعمال ہونے والی اصطلاحات ان کے لیے نئی ہی کیوں نہ ہوں۔
ڈاکٹر ہنادی صالح الیافعی کے مطابق بچوں کا تحفظ صرف ان کی نگرانی کرنے سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ان کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق اور غیر جانب دارانہ گفتگو بھی ضروری ہے۔ آن لائن رجحانات سے آگاہی، بچوں کے سوالات سننا اور ان کے تجربات پر بغیر کسی فیصلے کے بات کرنا والدین کو عام انٹرنیٹ مزاح اور ممکنہ نقصان دہ رابطوں میں فرق کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا مسلسل تبدیل ہورہی ہے، اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے آن لائن رابطوں اور گفتگو کے انداز کو سمجھنے کی کوشش جاری رکھیں۔ بروقت آگاہی اور کھلے رابطے کے ذریعے بچوں کو انٹرنیٹ کے ممکنہ خطرات سے بچانے اور انہیں زیادہ محفوظ انداز میں ڈیجیٹل دنیا استعمال کرنے میں مدد دی جاسکتی ہے۔







