
خلیج اردو
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے خلیجی ممالک کا دورہ شروع کردیا ہے، جس کا مقصد تیل اور ڈیزل کی فراہمی یقینی بنانے، توانائی کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے اور خطے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون مضبوط بنانا ہے۔ اس دورے میں وہ کویت کے علاوہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر جائیں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہورہا ہے جب فرانس میں مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں اور امریکا ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔
ایمینوئل میکرون پیر کو تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن کویت پہنچے، جہاں امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے ان کا استقبال کیا۔ فرانسیسی صدر بدھ تک متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کا دورہ بھی کریں گے۔ فرانسیسی صدارت کے مطابق ان ملاقاتوں میں اقتصادی اور دفاعی شراکت داری کے فروغ کے ساتھ توانائی کی فراہمی اور سمندری راستوں کے تحفظ پر بھی بات چیت ہوگی۔
فرانس میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے خلاف مظاہروں نے پرتشدد صورت اختیار کرلی تھی۔ حکام کے مطابق ان واقعات میں 2 ہزار 500 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ متعدد مقامات پر بلدیاتی دفاتر اور دکانوں میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آتش زدگی کے واقعات پیش آئے۔ میکرون نے اتوار کی شب اپنے خطاب میں تشدد کی شدید مذمت کی اور سکیورٹی و انٹیلی جنس کی ناکامیوں کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کردیا۔
کویت روانگی سے قبل فرانسیسی صدر نے کہا کہ خلیجی دورہ توانائی کی فراہمی محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق مظاہرین نے بھی ایندھن کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم آئینی امور کے ماہر بینجمن مورل نے خبردار کیا کہ اندرون ملک بدامنی کے دوران صدر کا بیرون ملک دورہ معمول کے حالات کا تاثر دینے کے بجائے عوام سے لاتعلقی یا حکومتی خلا کا تاثر بھی پیدا کرسکتا ہے۔
فرانسیسی صدارت کے مطابق دورے کا ایک اہم مقصد تیل اور ڈیزل کی فراہمی کے حوالے سے مخصوص یقین دہانیاں حاصل کرنا ہے۔ میکرون کے ہمراہ فرانس کی دو بڑی توانائی کمپنیوں ٹوٹل انرجیز اور اینجی کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود ہیں۔ فرانس رواں سال گروپ آف سیون کی صدارت کررہا ہے، جس کے رکن ممالک نے اکتوبر کے آغاز میں ایندھن کی منڈی پر دباؤ کم کرنے کے لیے اپنے تزویراتی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تک تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی و تزویراتی تعلقات کے توانائی امور کے ماہر فرانسس پیرن کے مطابق میکرون کے دورے سے ایندھن کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑنے کی توقع نہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں کا تعین متعدد عوامل سے ہوتا ہے، اس لیے خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے فوری نتائج کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
دورے کے دوران میکرون خلیجی رہنماؤں، جن میں متحدہ عرب امارات کے صدر اور قطر کے امیر شامل ہیں، سے توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کو محفوظ بنانے اور برآمدات کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پر بات کریں گے۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی اس تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس راستے میں رکاوٹ عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرسکتی ہے۔
فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کے لیے ایک بین الاقوامی مشن تشکیل دیا ہے، جس میں ممکنہ طور پر سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔ یہ مشن امریکا اور ایران کے درمیان آبی گزرگاہ کے حوالے سے کسی معاہدے کے بعد فعال ہوسکتا ہے۔ تاہم جنگ شروع ہونے کے آٹھ ماہ بعد بھی دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
میکرون خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون پر بھی بات چیت کریں گے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک کو ہزاروں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد خطے میں دفاعی تیاریوں اور سلامتی کے تعاون کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔







