متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی اہم شخصیات نے خلیجی ممالک کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر تلخ بحثوں، توہین آمیز تبصروں اور باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ اقدار، تاریخی تعلقات اور علاقائی یکجہتی کو ترجیح دیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی اہم شخصیات نے خلیجی ممالک کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر تلخ بحثوں، توہین آمیز تبصروں اور باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ اقدار، تاریخی تعلقات اور علاقائی یکجہتی کو ترجیح دیں۔ خلیجی سوشل میڈیا پر اتحاد کے حق میں آوازیں نمایاں ہورہی ہیں، جہاں سیاسی معاملات کے علاوہ شاعری، کھیل اور روزمرہ زندگی سے متعلق گفتگو میں بھی بھائی چارے کے پیغامات سامنے آرہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے ہفتہ 17 اکتوبر کو خلیجی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کے تنازعات سے بالاتر ہوکر سوچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توہین آمیز تبادلہ خیال خطے کی اخلاقی اقدار اور روایات کی عکاسی نہیں کرتا۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ مختلف معاملات پر آرا میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن یکجہتی، دانش مندی کو ترجیح دینے اور باہمی جھگڑوں سے گریز کرنے کا کوئی متبادل نہیں۔

سعودی عرب کے شہزادے اور معروف شاعر عبدالرحمان بن مساعد نے بھی خلیجی صارفین کے درمیان جاری آن لائن بحثوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ وہ اپنی شاعری کے حوالے سے ایک آن لائن موازنے کے تنازع میں شامل ہوگئے تھے، تاہم انہوں نے اس بحث سے خود کو الگ رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا۔

شہزادہ عبدالرحمان بن مساعد نے سعودی، اماراتی اور دیگر خلیجی صارفین کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ان امور کو نمایاں کرنا چاہیے جو انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، نہ کہ ان معاملات کو جو تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے خیالات کو فروغ دینا چاہیے جو لوگوں کو متحد کریں اور ان باتوں کو ایک طرف رکھنا چاہیے جو دوریاں بڑھاتی ہیں۔

انہوں نے قومی شخصیات کے خلاف توہین آمیز زبان اور ذاتی حملوں پر بھی تنقید کی اور خبردار کیا کہ اپنے ملک سے محبت یا اس کا دفاع پڑوسی معاشروں کے خلاف نفرت کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ شہزادے نے یہ بھی توجہ دلائی کہ سوشل میڈیا پر قومی پرچم استعمال کرنے والے ہر اکاؤنٹ کے بارے میں یہ فرض نہیں کرلینا چاہیے کہ وہ لازماً اسی ملک کے شہری کا ہے جس کا پرچم اس پر موجود ہے۔

سعودی اداکار ناصر القصبی نے شہزادہ عبدالرحمان بن مساعد کے پیغام کو سراہتے ہوئے کہا کہ خلیجی عوام کے درمیان مشترکہ رشتے عارضی اختلافات سے کہیں زیادہ گہرے اور اشتعال انگیز آوازوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ خلیجی دانشور، صحافی، فنکار اور دیگر عوامی شخصیات ’’تضامن‘‘ یعنی یکجہتی کے نام سے مشترکہ اقدام شروع کریں، جس کا مقصد معاشروں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانا اور تقسیم پیدا کرنے والی گفتگو کا مقابلہ کرنا ہو۔

اماراتی کاروباری شخصیت اور سوشل میڈیا مبصر مروان السرکال نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیج ایک ہے اور اس کے عوام ایک خاندان کی مانند ہیں۔ ان کے مطابق اختلاف رائے کے باوجود خلیجی عوام کے مشترکہ مستقبل اور تعلقات کی بنیاد مضبوط ہے۔

اماراتی سوشل میڈیا صارف صالح الشحی نے سعودی عرب اور اس کے عوام سے اپنے تعلق اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے ریاض سمیت مملکت میں گزارے گئے وقت کی یادیں شیئر کیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے لیے امن و سلامتی کی دعا بھی کی اور سعودی ٹی وی میزبان ترکی العجمی کو مثبت گفتگو کی حوصلہ افزائی اور اشتعال انگیز بحثوں سے گریز پر سراہا۔

خلیجی بھائی چارے کا پیغام کھیلوں کے مقابلوں میں بھی سامنے آچکا ہے۔ اماراتی شاعر زاید المیسری نے متحدہ عرب امارات کے العین کلب اور سعودی عرب کے الہلال کے درمیان فٹ بال مقابلے کا حوالہ دیتے ہوئے اشعار میں کہا کہ دونوں معاشروں کے درمیان حسد یا ایک دوسرے کی ناکامی پر خوشی منانے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ان کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم بھائی چارے کا حصہ ہیں۔

یہ اپیلیں متحدہ عرب امارات میں پہلے شروع کیے گئے ’’تبصرہ کیے بغیر بلاک کریں‘‘ اقدام کی بھی یاد دلاتی ہیں۔ شیخ عبداللہ بن محمد بن بتی الحامد کی جانب سے شروع کی گئی اس مہم میں سوشل میڈیا صارفین کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ توہین آمیز یا اشتعال انگیز اکاؤنٹس کے ساتھ بحث کرنے اور انہیں مزید توجہ دینے کے بجائے بلاک کردیں۔

اس اقدام کا مقصد آن لائن بدزبانی، اشتعال انگیزی اور منظم ہراسانی کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔ اگست 2025 میں اماراتی صحافیوں کی انجمن نے مصر میں عرب یوتھ میڈیا کریئیٹیوٹی سمٹ کے دوران اس مہم کو پیش کیا، جہاں اسے ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کے فروغ کی کوششوں میں شامل کیا گیا۔

خلیجی ممالک سے ایک بار پھر سامنے آنے والی ان اپیلوں میں بنیادی پیغام یہی ہے کہ آن لائن اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مشترکہ ثقافت، دوستی، خاندانی رشتوں اور تاریخی تعلقات کو اہمیت دی جائے۔ عوامی شخصیات کے مطابق سوشل میڈیا پر ذمہ دارانہ گفتگو اور اشتعال انگیز مواد سے دوری خطے کے معاشروں کے درمیان احترام اور یکجہتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button