متحدہ عرب امارات

دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے خلیجی ممالک کے عوام کے نام اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے خلیجی یکجہتی کو اپنا ’’سب سے خوبصورت خواب‘‘ قرار دیا ہے۔

خلیج اردو
دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے خلیجی ممالک کے عوام کے نام اتحاد کا پیغام دیتے ہوئے خلیجی یکجہتی کو اپنا ’’سب سے خوبصورت خواب‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ جغرافیہ، تاریخ، خاندانی رشتے اور معاشی مفادات خلیجی معاشروں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں صدیوں پرانے تعلقات ختم نہیں کرسکتیں۔

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنی نئی کتاب ’’لیٹرز‘‘ کے اقتباسات میں خلیجی خطے کی ترقی اور مشترکہ شناخت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی عوام نے چند دہائیوں میں صحرائی بستیوں سے عالمی شہروں، ماہی گیری کی چھوٹی بندرگاہوں سے بین الاقوامی بحری راستوں اور موتیوں کی تلاش سے دنیا کی بڑی سرمایہ کاریوں تک کا سفر طے کیا ہے۔

شیخ محمد بن راشد کے مطابق خلیجی ممالک نے دولت پیدا کرنے، ادارے قائم کرنے، براعظموں کو آپس میں جوڑنے، دنیا کے بڑے ایونٹس کی میزبانی کرنے اور عالمی معیشت کو توانائی فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ تاہم ان کے نزدیک خطے کی سب سے بڑی کامیابی اپنے عوام پر سرمایہ کاری، اپنے وطن سے محبت کو مضبوط بنانے اور خلیج آنے، یہاں کام کرنے اور اس کی ترقی میں شریک ہونے والے افراد کے درمیان رواداری اور بقائے باہمی کی اقدار کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے خلیجی اتحاد کی بنیادوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر قومیں تاریخ سے بنتی ہیں تو مشترکہ تاریخ خلیجی عوام کو جوڑتی ہے، اگر جغرافیہ انہیں متحد کرتا ہے تو سمندر انہیں ملاتا اور صحرا انہیں اپنے دامن میں سمیٹتا ہے۔ اسی طرح خاندانی رشتے اور مشترکہ نسل و نسب ان کے تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں، جبکہ بلند عزائم اور مشترکہ مفادات ان کے اہداف کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔

شیخ محمد بن راشد نے سوشل میڈیا پر خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے والی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششیں پڑوسیوں کے صدیوں پرانے تعلقات، جغرافیائی حقائق اور مشترکہ خاندانی تاریخ کو مٹا نہیں سکتیں۔ ان کے مطابق خلیجی عوام کو صرف سیاسی معاہدوں نے ایک دوسرے کے قریب نہیں کیا، بلکہ ان نسلوں نے یہ رشتے قائم کیے جو ان ساحلوں پر آباد رہیں، ان ماؤں نے جو اپنے بیٹوں کی بحفاظت واپسی کے لیے دعائیں کیں اور ان باپوں نے جو مشترکہ عقیدے کے تحت اس سرزمین پر ایک دوسرے سے جڑے رہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ جغرافیہ، تاریخ اور خونی رشتے خلیجی عوام کو متحد کرتے ہیں اور میڈیا پلیٹ فارمز انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق ترقی کا مشترکہ سفر اور معاشی مفادات خطے کو قریب لاتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر کیے جانے والے مفاداتی حساب کتاب، محدود ایجنڈے اور بدنیتی رکھنے والے افراد انہیں تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

شیخ محمد بن راشد کا یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خلیجی ممالک کی متعدد اہم شخصیات سوشل میڈیا پر توہین آمیز بحثوں اور باہمی الزامات سے گریز کرنے کی اپیل کررہی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے بھی خلیجی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن تنازعات سے بالاتر ہوکر دانش مندی اور یکجہتی کو ترجیح دیں۔ سعودی شہزادے اور معروف شاعر عبدالرحمان بن مساعد نے بھی کہا ہے کہ ایسی آرا کو فروغ دینا چاہیے جو لوگوں کو متحد کریں، نہ کہ انہیں تقسیم کریں۔

دبئی کے حکمران نے واضح کیا کہ خلیجی اتحاد سے مراد ایسا سیاسی اتحاد نہیں جو ہر ملک کی منفرد شناخت اور خصوصیات کو نظرانداز کردے۔ ان کے مطابق اتحاد کا مطلب سرحدیں کھول دینا نہیں بلکہ دلوں کو قریب لانا ہے۔ طاقت اختلافات ختم کرنے میں نہیں بلکہ انہیں اس انداز میں سنبھالنے میں ہے کہ نئی توانائی اور ترقی کے مواقع پیدا ہوں۔

انہوں نے مختلف دریاؤں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب دریا ایک ہی سمندر میں گرتے ہیں تو اپنی شناخت نہیں کھوتے، بلکہ مل کر مواقع، دولت اور طاقت کا ایک وسیع سمندر تشکیل دیتے ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک بھی اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ ترقی اور تعاون کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

شیخ محمد بن راشد نے اپنے پیغام کے اختتام پر خلیج کے مستقبل کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے حکم سے یہ خطہ اپنے صحراؤں، عوام، سمندروں، بندرگاہوں، ترقیاتی منصوبوں اور نئی نسلوں کے عزم کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خلیجی ممالک متحد رہیں گے، ان کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں گے اور یہ فخر برقرار رہے گا کہ وہ خلیجی عرب ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button