
خلیج اردو
مکہ مکرمہ میں مسجد کے اندر مبینہ بے حیائی کے واقعے میں سزائے موت پانے والے دو بنگلہ دیشی شہریوں سے منسوب سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مقدس مساجد سے متعلق خبریں اور معلومات فراہم کرنے والے اکاؤنٹ ’دی ہولی موسکس‘ نے منگل کو وضاحت کی کہ گردش کرنے والی ویڈیو کو اس واقعے سے جوڑنے کا دعویٰ درست نہیں۔
سعودی حکام نے 14 اکتوبر کو دو بنگلہ دیشی شہریوں کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر مبینہ بے حیائی کے فعل کے ارتکاب پر سزائے موت دی تھی۔ سعودی وزارت داخلہ کے بیان میں واقعے کی مزید تفصیلات یا متعلقہ مسجد کا نام نہیں بتایا گیا، تاہم سزائے موت پانے والوں کی شناخت نذرالاسلام عبدال بصیر اور سیتی اختر کے نام سے ظاہر کی گئی۔
وزارت داخلہ کے مطابق حکام مساجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور دوسروں کی عزت و حرمت کے خلاف جرائم پر اسلامی قانون کے نفاذ، انصاف کی فراہمی اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سزائے موت کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مرد اور عورت کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں انہیں خانہ کعبہ کے مشرقی کونے میں نصب حجر اسود کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ منسلک کیپشنز میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہی واقعہ ہے جس میں دونوں بنگلہ دیشی شہری ملوث تھے۔
تاہم ’دی ہولی موسکس‘ کے ایکس اکاؤنٹ نے واضح کیا کہ اس دعوے کے ساتھ شیئر کی جانے والی ویڈیو غلط ہے اور اسے دونوں شہریوں کی سزائے موت یا متعلقہ واقعے کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اس معاملے پر سعودی عرب میں بنگلہ دیشی سفارت خانے کا فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔







