متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹک سیپروفلوکساسین کے استعمال پر یکم نومبر سے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹک سیپروفلوکساسین کے استعمال پر یکم نومبر سے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد جراثیم میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کو روکنا اور انسانی علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی افادیت برقرار رکھنا ہے۔

حکام کے مطابق سیپروفلوکساسین کا تعلق فلوروکوئنولونز نامی اینٹی بائیوٹکس کے گروپ سے ہے، جسے انسانی طب میں انتہائی اہم اینٹی مائیکروبیل ادویات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ادویات بعض بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں۔ جانوروں میں ان ادویات کا غیر مناسب استعمال جراثیم میں مزاحمت پیدا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دستیاب علاج کی افادیت کم ہونے اور صحت عامہ کے مسائل بڑھنے کا خدشہ ہے۔

پابندی کا اطلاق سیپروفلوکساسین پر مشتمل جانوروں کی ادویات اور خام مال پر ہوگا۔ اس فیصلے سے جانوروں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی نو مصنوعات متاثر ہوں گی، جن میں آٹھ درآمد شدہ اور ایک مقامی طور پر رجسٹرڈ دوا شامل ہے۔

پابندی کے نفاذ سے قبل امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ نے متعلقہ مصنوعات اور خام مال کی نشاندہی کرتے ہوئے اداروں کو ضروری اقدامات سے آگاہ کر دیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ان مصنوعات کی تیاری، درآمد اور فراہمی روکنے، پابندی نافذ ہونے سے پہلے مقامی مارکیٹ سے موجود ذخیرہ واپس اٹھانے اور باقی ماندہ اسٹاک منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق دوبارہ برآمد یا تلف کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ اداروں کو ان اقدامات کی تکمیل کے ثبوت اور ضروری دستاویزات بھی جمع کرانا ہوں گی۔ امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے، جس کے تحت مقررہ مدت میں تمام ضروری اقدامات کی تکمیل کی تصدیق کی جائے گی۔

یہ فیصلہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت سے متعلق تحقیقی مطالعات کے بعد کیا گیا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ تحقیق بھی شامل ہے۔

امارات ڈرگ اسٹیبلشمنٹ کے شعبہ میڈیکل پراڈکٹس ریگولیشن کی قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رقایا عقیل البستکی نے کہا کہ اینٹی مائیکروبیل ادویات کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے ہر دوا سے وابستہ خطرات اور مختلف شعبوں میں علاج کی ترجیحات پر ان کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ان کے مطابق سائنسی شواہد یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ کسی دوا کے استعمال پر کس حد تک ضابطہ جاتی پابندیاں عائد کی جانی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button