متحدہ عرب امارات

شارجہ کے نجی سکولوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے نئے اخلاقی اصول متعارف کرا دیے گئے ہیں، جن کے تحت طلبہ چیٹ جی پی ٹی سمیت اے آئی ٹولز سے تحقیق، معلومات جمع کرنے اور نئے خیالات تلاش کرنے میں مدد لے سکیں گے

خلیج اردو
شارجہ کے نجی سکولوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے نئے اخلاقی اصول متعارف کرا دیے گئے ہیں، جن کے تحت طلبہ چیٹ جی پی ٹی سمیت اے آئی ٹولز سے تحقیق، معلومات جمع کرنے اور نئے خیالات تلاش کرنے میں مدد لے سکیں گے، تاہم انہیں ان ٹولز کے ذریعے اپنے جوابات لکھنے یا اسائنمنٹس مکمل کروا کر اپنے نام سے جمع کرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

شارجہ پرائیویٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے نئے فریم ورک کا مقصد تعلیمی معیار بہتر بنانے کے ساتھ طلبہ کی نجی معلومات، ڈیٹا کے تحفظ اور تعلیمی دیانت داری کو یقینی بنانا ہے۔ ان اصولوں میں شفافیت، جواب دہی، سائبر سکیورٹی، تنقیدی سوچ اور اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق پر زور دیا گیا ہے۔

شارجہ انڈین سکول کے پرنسپل پرمود مہاجن کے مطابق طلبہ اے آئی کے ذریعے کسی موضوع پر تحقیق اور معلومات حاصل کرسکتے ہیں، لیکن حتمی جوابات اور نتائج ان کی اپنی سوچ اور سمجھ کا عکاس ہونے چاہییں۔ طلبہ کی حقیقی صلاحیت جانچنے کے لیے سکول براہ راست کوئز اور ایسے امتحانات بھی لے سکتے ہیں جن میں وہ فوری طور پر اپنے جوابات دیں۔

رافلز ورلڈ اکیڈمی شارجہ کی پرنسپل ڈاکٹر آرمینہ تبسم نے کہا کہ اے آئی کو طلبہ کی سوچ بہتر بنانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ ان کی جگہ کام کرنے کے لیے۔ اساتذہ ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دیں گے، جبکہ والدین کو بھی ترغیب دی جائے گی کہ بچے ڈیجیٹل مدد لینے سے پہلے خود کام مکمل کرنے کی کوشش کریں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button