
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں گوگل پر منفی ریویو دینا بذات خود جرم نہیں، تاہم جھوٹے الزامات، جعلی ریویوز کی منظم مہم، بدنامی اور آن لائن دھمکیوں پر فوجداری کارروائی اور بھاری جرمانے ہوسکتے ہیں۔ دبئی پولیس نے ایک کمپنی کی ساکھ متاثر کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کے لیے مبینہ طور پر جعلی منفی ریویوز پوسٹ کرنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے۔
قانونی مشیر ہشام الرفاعی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قانون کے تحت جرم کی نوعیت اور سزا کا تعین اس بات سے ہوگا کہ ریویو میں کیا لکھا گیا، اسے کس انداز میں شائع کیا گیا اور آیا اس کے پیچھے منظم یا معاوضے پر مبنی مہم تھی۔
قانون کی دفعہ 43 کے تحت آن لائن توہین اور ہتک عزت پر ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ اور قید ہوسکتی ہے۔ دفعہ 55 کے تحت غیر قانونی مواد یا جھوٹا ڈیٹا شائع کرنے کے عوض مالی یا غیر مالی فائدہ لینے پر دو سال تک قید اور 20 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
قانون کی دفعہ 54 کے تحت جھوٹی معلومات پھیلانے کے لیے الیکٹرانک بوٹس بنانے یا ان میں ترمیم کرنے پر دو سال تک قید اور ایک لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ جبکہ دفعہ 42 کے تحت آن لائن دھمکی یا بلیک میلنگ پر بھی قید اور ڈھائی لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانے کی گنجائش ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق صارفین خراب سروس یا ناقص مصنوعات کے بارے میں حقیقی تجربات بیان کرسکتے ہیں، لیکن من گھڑت واقعات، ذاتی توہین یا کاروبار کو نقصان پہنچانے کے لیے جعلی ریویوز کی مہم قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔ متاثرہ کاروبار مالی نقصان کا ثبوت فراہم کرکے ہرجانے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں۔







