متحدہ عرب امارات

سماجی بے چینی سے باکسنگ کے عرش تک: دبئی کے نوجوان باکسر اسعد طوقان کا شاندار سفر

دبئی (نیوز ڈیسک): اسکول کے دنوں میں اسعد طوقان (Asaad Touqan) اتنے شرمیلے تھے کہ وہ اپنے ہم جماعتوں سے نظریں ملا کر بات کرنے سے بھی ڈرتے تھے۔ خود ان کے بقول، وہ لڑکیوں اور عام لوگوں سے بات کرنے سے خوفزدہ رہتے تھے اور خود کو ایک الگ تھلگ اور "عجیب” بچہ سمجھتے تھے۔ لیکن آج وہی شرمیلا بچہ کم عمری میں باکسنگ کی دنیا کا ایک بڑا نام بن چکا ہے۔

کیک باکسنگ اور موئے تھائی (Muay Thai) میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعدد تمغے جیتنے کے بعد اسعد نے اپنی توجہ پروفیشنل باکسنگ پر مرکوز کی اور اپنی والدہ کو منا کر کلب میں داخلہ لیا۔

کم عمر ترین عرب WBC چیمپئن: دبئی میں مقیم 19 سالہ اسعد طوقان نے حال ہی میں دبئی میں ڈبلیو بی سی ایشیا یوتھ سپر مڈل ویٹ ٹائٹل (WBC Asia Youth super-middleweight title) جیت لیا ہے۔ وہ کم عمر ترین عرب ڈبلیو بی سی (WBC) چیمپئن بن گئے ہیں جبکہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے اردنی-فلسطینی فائٹر بھی ہیں۔

اسعد نے بتایا کہ وہ یہ ٹائٹل سعودی عرب میں لڑنے والے تھے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ یہ کامیابی اپنے دوسرے گھر ‘دبئی’ میں حاصل کرنا چاہتے تھے جس نے انہیں بہت کچھ دیا۔

بچپن کی جدوجہد اور سخت پس منظر: آٹھ سال کی عمر میں باکسنگ شروع کرنے والے اسعد نے بتایا کہ دو سال بعد انہوں نے 10 سال کی عمر میں بڑوں کی کلاسز میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ وہ کہتے ہیں:

"میں باکسنگ کرتے ہوئے روتا تھا کیونکہ مجھے اس سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ میں بڑوں کے ساتھ ٹریننگ کرتا تھا جو مجھے مکے مارتے تھے، لیکن میں خود کو کم نہیں سمجھنا چاہتا تھا اور ان کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا۔ تب لوگوں نے نوٹس کیا کہ اس بچے میں حوصلہ ہے اور یہ لڑ سکتا ہے۔”

اسعد کا تعلق ایک سخت گیر خاندان سے ہے؛ ان کے ماموں اور رشتہ دار اردن میں اسپیشل فورسز، انٹرپول اور فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تاہم، جب انہوں نے پروفیشنل باکسنگ میں قدم رکھا تو ابتدائی طور پر والدین اس کے خلاف تھے کیونکہ اس کھیل میں خطرات، چوٹیں اور دماغی نقصانات کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسعد نے اپنے والد کو اس کھیل کو بطور ‘برینڈنگ اور نیٹ ورکنگ’ اپنانے کا یقین دلایا، جبکہ ان کی والدہ آج بھی ان کے ہر میچ میں زمین پر دیکھ کر صرف دعائیں کرتی ہیں۔

مستقبل کے عزائم اور احترام کا حصول: مشہور باکسر محمد علی سے متاثر اسعد طوقان کا مقصد صرف رنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا نام بننا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں رئیل اسٹیٹ، پروڈکشن یا اداکاری جیسی جس فیلڈ میں بھی جائیں، کامیاب ہوں۔

وہ کہتے ہیں:

"باکسنگ آپ کو معاشرے میں عزت دلاتی ہے۔ جب آپ رنگ میں ہوتے ہیں اور لوگ آپ کو دیکھتے ہیں، تو وہ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں، آپ کو حقیر نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اس راستے کا انتخاب کیا۔”

کبھی اسکول میں بات کرنے سے گھبرانے والے اس بچے کا یہ شاندار سفر آج کے نوجوانوں کے لیے محنت اور لگزم کا ایک انوکھا نمونہ ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button