
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست العین میں ڈرین صاف کرنے والے خطرناک کیمیکل سے دو نوجوان جھلس گئے، عدالت نے ریسٹورنٹ کے مالک اور دو ملازمین کو متاثرین کو مجموعی طور پر 50 ہزار درہم ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق دونوں نوجوان ریسٹورنٹ کے عقب میں واقع ایک گزرگاہ سے گزر رہے تھے، جسے وہ اپنی رہائشی عمارت سے باہر نکلنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ گزرگاہ کی صفائی کے لیے نالیوں کو کھولنے والا کیمیکل استعمال کیا گیا تھا۔ نوجوان پھسل کر اس کیمیکل پر گر پڑے، جس سے ان کے جسم جھلس گئے۔
واقعے میں ایک نوجوان کو تیسرے درجے جبکہ دوسرے کو دوسرے درجے کے کیمیائی جلنے کے زخم آئے۔ حادثے کے بعد ملزمان کے خلاف فوجداری کارروائی کی گئی اور انہیں مجرم قرار دیا گیا۔
متاثرین نے جسمانی اور ذہنی اذیت کے ازالے کے لیے سول عدالت سے رجوع کیا اور مجموعی طور پر 3 لاکھ درہم ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ پہلے نوجوان نے 2 لاکھ جبکہ دوسرے نے ایک لاکھ درہم معاوضہ طلب کیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران فرانزک ڈاکٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پہلے نوجوان کے بائیں بازو، کمر، جسم کے دائیں جانب اور دونوں ٹانگوں پر نشانات باقی رہ گئے، جبکہ جلد کی مجموعی فعالیت میں 15 فیصد نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ دوسرے نوجوان کے بازوؤں اور ٹانگوں پر بھی داغ پڑ گئے، جس سے جلد کی فعالیت میں 5 فیصد نقصان ہوا۔
العین کی سول، تجارتی اور انتظامی عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری مقدمے میں واقعے اور ملزمان کی ذمہ داری کا تعین ہو چکا ہے، اس لیے سول عدالت ان معاملات پر دوبارہ غور نہیں کر سکتی۔ عدالت نے پہلے نوجوان کو 30 ہزار اور دوسرے کو 20 ہزار درہم معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ ریسٹورنٹ کا مالک اور دونوں ملازمین مشترکہ طور پر ادائیگی کے ذمہ دار ہوں گے، جبکہ انہیں عدالتی اخراجات اور وکلا کی فیس بھی ادا کرنا ہوگی۔







