
دبئی کا میوزیم آف دی فیوچر 2027 کی پہلی سہ ماہی میں دوبارہ کھولنے کی تیاری کررہا ہے، جہاں عمارت کی بیرونی شکل تو پہلے جیسی ہوگی، تاہم اندر آنے والے زائرین کو بالکل نیا تجربہ فراہم کیا جائے گا۔ میوزیم میں نئی نمائشیں، جدید تجرباتی ماحول اور نئی لیبارٹریز متعارف کرائی جائیں گی، جبکہ سائنس، تحقیق اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے میں زائرین کا کردار بھی زیادہ فعال ہوگا۔
میوزیم کی چیف آپریٹنگ آفیسر عزا النعیمی نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ نئے میوزیم کا اپنا الگ موضوع اور سمت ہوگی، جس کا مقصد صرف موجودہ گیلریوں کو جدید بنانا نہیں بلکہ زائرین کے لیے مکمل طور پر نیا تجربہ پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق کوشش ہوگی کہ مستقبل کو محض تصور کرنے کے بجائے زائرین کو اس کی تلاش اور تجربے میں عملی طور پر شریک کیا جائے۔
میوزیم کی ویب سائٹ پر جاری سوالات و جوابات کے مطابق موجودہ نمائشوں اور سرگرمیوں میں سے کوئی بھی اپنی سابقہ شکل میں واپس نہیں آئے گی۔ ان کی جگہ نئی نمائشیں اور تجربات متعارف کرائے جائیں گے، جنہیں ایک نئے تصور اور زائرین کے لیے مختلف سفر کے تحت ترتیب دیا جائے گا۔ زائرین کو نئی امکانات دریافت کرنے، لیبارٹریوں میں جاری کام سے واقف ہونے اور یہ سمجھنے کے مواقع ملیں گے کہ آج کیے جانے والے فیصلے مستقبل کی دنیا کو کس طرح تشکیل دے سکتے ہیں۔
میوزیم کے نئے تجربے کو پیش کرنے والی ٹیم بھی تبدیل کی جارہی ہے۔ میوزیم کے مطابق وزیٹر ایکسپیرینس ٹیم کے لیے ’’فیوچر پرفیکٹس‘‘ کے نام سے شروع کی گئی بھرتی مہم کے پہلے 48 گھنٹوں میں 20 ہزار سے زائد درخواستیں مکمل کی گئیں۔ ان ملازمتوں کے لیے میوزیم یا کسٹمر سروس کا سابقہ تجربہ بنیادی شرط نہیں، بلکہ تجسس، تخیل، جذباتی فہم اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے جیسی صلاحیتوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔
میوزیم کی دوبارہ افتتاحی تقریب اس کے پانچویں سالگرہ کے آس پاس متوقع ہے۔ یہ عمارت 22 فروری 2022 کو پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھولی گئی تھی، تاہم 2027 میں دوبارہ کھلنے کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ میوزیم کی انتظامیہ کے مطابق نئی نمائشوں کے ٹکٹ دوبارہ افتتاح کے قریب فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
میوزیم گزشتہ تقریباً پانچ برس سے زائرین کو مختلف تجربات فراہم کرتا رہا ہے، جن میں خلائی جہاز او ایس ایس ہوپ کے ذریعے 2071 کی تصوراتی دنیا کا سفر، ہیل انسٹی ٹیوٹ، الواحہ، مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق ٹومارو ٹوڈے اور بچوں کے لیے فیوچر ہیروز شامل ہیں۔ عزا النعیمی نے بتایا کہ نئی سرگرمیوں کے لیے جگہ بنانے کی خاطر موجودہ نمائشیں ہٹا دی جائیں گی۔
تاہم انفرادی نمائشوں کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلے ابھی نہیں کیے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق ہر نمائش کی نوعیت، حالت اور مستقبل میں استعمال کے امکانات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا کہ کن چیزوں کو محفوظ رکھا جائے گا، کہاں منتقل کیا جائے گا، دوبارہ استعمال کیا جائے گا یا مکمل طور پر ہٹا دیا جائے گا۔
میوزیم کے سامنے ایک اہم چیلنج یہ بھی ہے کہ مستقبل سے متعلق ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی مسلسل تبدیل ہورہی ہے۔ 2022 میں میوزیم کے افتتاح کے بعد سے مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں تیزی سے پیش رفت ہوئی ہے۔ عزا النعیمی کے مطابق ان تبدیلیوں نے ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے معاشرے اور روزمرہ زندگی پر اثرات سے متعلق نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ میوزیم کا مقصد کبھی بھی مستقبل کی درست پیش گوئی کرنا نہیں تھا، بلکہ مختلف امکانات کا جائزہ لینا، لوگوں کو روایتی مفروضوں پر سوال اٹھانے کی ترغیب دینا اور مستقبل کی تشکیل میں انسانی فیصلوں کے کردار کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ ان کے مطابق نئے دور میں بھی یہی مقصد برقرار رہے گا، تاہم بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق نئے زاویے اور تصورات متعارف کرائے جائیں گے۔







