متحدہ عرب امارات

شارجہ نیشنل آئل کارپوریشن نے اپنی گیس کی موجودہ پیداوار دوگنا سے بھی زیادہ ہونے کا اعلان کر دیا

خلیج اردو
شارجہ نیشنل آئل کارپوریشن نے اپنی گیس کی موجودہ پیداوار دوگنا سے بھی زیادہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اہم پیش رفت امارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات پوری کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔ یہ اعلان ہیڈبہ گیس کنڈینسیٹ فیلڈ کی ترقی کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے موقع پر کیا گیا۔

ہیڈبہ گیس فیلڈ مئی 2024 میں سجا گیس فیلڈ کے شمال مشرق میں دریافت ہوئی تھی۔ شارجہ نیشنل آئل کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خمیس المزروعی کے مطابق پہلے مرحلے کی تکمیل اور گیس کی پیداوار کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی نئی دریافت کو تیزی سے عملی پیداوار میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ہیڈبہ شارجہ کا پانچواں ساحلی گیس فیلڈ ہے۔ اس سے قبل السجا، کہیف، مہانی اور مؤید فیلڈز موجود ہیں۔ شارجہ پیٹرولیم کونسل نے 2024 میں ہیڈبہ فیلڈ میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ شارجہ نیشنل آئل کارپوریشن کی جانب سے کنواں کھودنے کے بعد معاشی طور پر قابلِ عمل مقدار میں گیس کے ذخائر سامنے آئے۔

نومبر 2025 میں سجا فیلڈ کے قریب ہیڈبہ 02 نامی دوسرے کنویں کی کھدائی اور جانچ کے نتائج بھی کامیاب قرار دیے گئے تھے۔ یہ کنواں زمین پر موجود ہیڈبہ گیس فیلڈ کے ذخائر کا جائزہ لینے اور اسے ترقی دینے کے منصوبے کا حصہ تھا، جس کی گہرائی 13 ہزار 200 فٹ تک پہنچائی گئی۔

خمیس المزروعی کے مطابق علاقائی جہاز رانی میں رکاوٹوں اور سامان کی فراہمی میں مشکلات کے باوجود کمپنی نے مقررہ مدت سے پہلے ترقیاتی کام مکمل کیے۔ دریافت کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں گیس کی پیداوار شروع کر دی گئی، جبکہ پہلے مرحلے میں کنوؤں کی جانچ، ذخائر کی تشخیص، گیس جمع کرنے کے بنیادی ڈھانچے، پائپ لائنوں کی تنصیب اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل کی گئیں۔

کمپنی کے اپ اسٹریم شعبے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسعود الحمادی نے کہا کہ ابتدائی جائزوں سے گیس کے ذخائر کا معیار، دباؤ کی موزوں خصوصیات اور حوصلہ افزا پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

شارجہ نیشنل آئل کارپوریشن نے ہیڈبہ فیلڈ کی ترقی کے اگلے مرحلے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جبکہ 2027 کے دوران پیداوار میں مزید اضافے کے لیے کام تیز کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق توقع ہے کہ یہ فیلڈ 2028 تک اپنی مقررہ بلند ترین پیداواری سطح تک پہنچ جائے گی اور امارت کی مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button