متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ نے سمندر میں تیل پھیلنے کے واقعے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے تمام ساحل عارضی طور پر بند کر دیے ہیں

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ نے سمندر میں تیل پھیلنے کے واقعے کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے تمام ساحل عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سمندری آلودگی کو ساحلوں تک پہنچنے سے روکنا اور عوام کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ خصوصی ٹیمیں اور متعلقہ ادارے آلودگی کی روک تھام اور ساحلی علاقوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

شارجہ حکومت نے شہریوں اور ساحلوں پر آنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور واقعے سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔ حکام نے غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہیں پھیلانے سے بھی گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

شارجہ کے تمام ساحلوں کی بندش سے قبل 23 اکتوبر کو الحمریہ بیچ کو بھی احتیاطی طور پر بند کیا گیا تھا تاکہ سمندری آلودگی کو ساحل تک پہنچنے سے روکا جاسکے۔ اس وقت بھی ماہی گیروں اور سمندر میں جانے والے افراد کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔

تیل پھیلنے کا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں کے رہائشیوں نے تقریباً تین روز تک فضا میں ایندھن جیسی تیز بو محسوس ہونے کی شکایات کیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے تصدیق کی کہ ام القوین کے ساحل کے قریب سمندر میں تیل پھیلنے کا واقعہ اس بو کی وجہ تھا۔

ام القوین میں بھی تمام ساحل اور ساحلی علاقے عارضی طور پر بند کردیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک متعلقہ ٹیمیں صورت حال کا جائزہ مکمل کرکے عوامی تحفظ اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کی نشاندہی نہیں کرتیں۔

اس کے اگلے روز رأس الخیمہ نے بھی اپنے تمام ساحل غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حکام نے فوری طور پر اس فیصلے کی وجہ واضح نہیں کی تھی۔

دوسری جانب ام القوین فش مارکیٹ کے دکانداروں کے مطابق مقامی ماہی گیری عارضی طور پر معطل ہونے کے باوجود بازار میں تازہ مچھلی دستیاب ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمان سے روزانہ تازہ مچھلی پہنچ رہی ہے اور عام اقسام کی تقریباً تمام دستیاب ہیں۔ پابندیوں کے دوران مقامی ماہی گیروں کو سمندر میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

حکام کے مطابق ساحلوں کی بندش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تکنیکی ٹیمیں اپنی جانچ مکمل نہیں کرلیتیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے واقعے اور آلودگی سے نمٹنے کے اقدامات کے بارے میں مزید معلومات سرکاری ذرائع سے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button