
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ابوظبی وفاقی اپیل کورٹ نے سوڈانی فوج کو غیر قانونی طور پر اسلحہ، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے مقدمے میں آٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ مقدمے کی تحقیقات میں اسلحے کے سودوں، تجارتی کمپنیوں، بینک ٹرانسفرز اور نقد ادائیگیوں کے ذریعے سوڈانی فوج تک فوجی سازوسامان پہنچانے والے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔
عمر قید پانے والوں میں راشد عمر عبدالقدیر علی، صلاح عبداللہ محمد محمد صالح المعروف صلاح گوش، احمد عبداللہ المعروف عبداللہ خلف اللہ، احمد ربیع سید احمد، محمد فتح البیک، یاسر عبدالرحمان العطا، عثمان الزبیر اور ماہر عبدالجلیل شامل ہیں۔ عدالت نے جرم میں استعمال ہونے والا ضبط شدہ گولہ بارود، موبائل فون اور مواصلاتی آلات بھی ضبط کرنے کا حکم دیا، جبکہ سزا پوری ہونے کے بعد سزا یافتہ افراد کو ملک بدر کیا جائے گا۔
عدالت نے راشد عمر عبدالقدیر علی، صلاح گوش، عبداللہ خلف اللہ، ماہر عبدالجلیل محمد عبدالجلیل، عثمان بابیکر، خالد یوسف مختار اور احمد خلف اللہ عبداللہ کو بھی منی لانڈرنگ کے جرم میں تین، تین سال قید کی سزا سنائی۔ جرمانے کے مستحق قرار پانے والے افراد کو فی کس 10 لاکھ درہم ادا کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ ضبط شدہ رقوم میں سے 15 لاکھ 45 ہزار درہم ضبط کرنے اور سزا پوری ہونے کے بعد متعلقہ افراد کی ملک بدری کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
عدالت نے منی لانڈرنگ میں ملوث چھ کمپنیوں پر بھی فی کس 10 لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا۔ ان کمپنیوں میں راشد عمر بروکریج کمپنی، پورٹیکس ٹریڈ لمیٹڈ، اپولارا الیکٹرانکس ٹریڈنگ کمپنی، ییلو سینڈ ٹریڈنگ کمپنی، وردۃ المسرہ ٹریڈنگ کمپنی اور سودامِنا فری زون شامل ہیں۔ عدالت نے ان کمپنیوں کے لائسنس اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کے ساتھ ان کے زیر حراست فنڈز اور منی لانڈرنگ سے حاصل ہونے والی آمدن ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔ مبارک علی الشیخ اور مصعب عوض الکریم حسن کو الزامات سے بری کردیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے متعلقہ حکام کے لائسنس یا اجازت کے بغیر اسلحے، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی خرید و فروخت کی۔ گوریونوف قسم کا گولہ بارود متحدہ عرب امارات لایا گیا تاکہ اسے فضائی راستے سے پورٹ سوڈان منتقل کیا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے طیارے میں موجود سامان کو طبی آلات اور طبی ضروریات کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ فوجی سازوسامان کی ادائیگیاں متحدہ عرب امارات کے اندر بینک ٹرانسفرز اور نقد رقوم کے ذریعے کی گئیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق راشد عمر عبدالقدیر علی نے اسلحے کے سودوں کو حتمی شکل دینے، ان پر عمل درآمد اور متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطہ کاری میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کی کمپنی کے ذریعے سوڈانی فوج کو اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ راشد عمر نے متحدہ عرب امارات میں ان سودوں کی ادائیگی کے لیے رقوم وصول کیں، جن میں ماہر عبدالجلیل کی جانب سے ایک سودے کے سلسلے میں تقریباً 80 لاکھ درہم نقد رقم بھی شامل تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ یاسر العطا، جو سوڈانی مسلح افواج کے سربراہ کے معاون اور اسلحہ سازی و خریداری کے ذمہ دار عہدیدار تھے، نے اسلحے اور فوجی سازوسامان کی خریداری کی درخواست کی اور پورٹ سوڈان ایئرپورٹ پر طیارے کی لینڈنگ کی اجازت حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ وہ اس بات سے آگاہ تھے کہ سودا متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر طے پایا تھا۔
سوڈانی فوج کے مالی امور کے ذمہ دار عثمان الزبیر نے اسلحے اور فوجی سازوسامان کے سودوں کی ادائیگیاں کیں اور حوالہ دار نظام کے ذریعے رقوم ماہر عبدالجلیل تک پہنچائیں، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ متعلقہ افراد کو متحدہ عرب امارات میں اسلحے کی تجارت کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ عدالت کے مطابق ماہر عبدالجلیل نے سودوں میں مالیاتی رابطہ کار اور درمیانی فریق کا کردار ادا کیا، رقوم کو اپنے بینک اکاؤنٹس اور کمپنیوں کے ذریعے منتقل کیا اور راشد عمر کو تقریباً 80 لاکھ درہم نقد فراہم کیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ خالد یوسف مختار، جو سوڈانی انٹیلی جنس سروس میں صلاح گوش کے دفتر کے سابق ڈائریکٹر تھے، نے سودے میں صلاح گوش کے لیے مختص کمیشن وصول کیا۔ احمد ربیع سید احمد نے بھی راشد عمر اور اس کی کمپنی کے لیے سوڈانی فوجی قیادت سے منظوری حاصل کرنے میں سہولت کاری کی۔ وہ پہلے سودے پر عمل درآمد کے سلسلے میں صلاح گوش کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاسوں میں شریک ہوئے اور دوسرے سودے کے بارے میں اسلحہ کمیٹی کے فیصلے سے راشد عمر کو آگاہ کیا۔ عدالت کے مطابق اس کی شمولیت کا مقصد مالی فائدہ حاصل کرنا تھا۔
عدالت نے مزید بتایا کہ سوڈان کے سابق وزیر خزانہ کے مشیر محمد فتح البیک نے راشد عمر کا عثمان الزبیر اور احمد ربیع سے رابطہ کرایا اور راشد عمر کی کمپنی کو سوڈانی فوج کے سپلائر کے طور پر منظور کرانے میں مدد دی، حالانکہ کمپنی اسلحہ فراہم کرنے کے شعبے میں کام نہیں کرتی تھی۔ اسے پہلے سودے میں کردار ادا کرنے پر ایک لاکھ 46 ہزار درہم ملے۔ عبداللہ خلف اللہ نے بھی اسلحے کے سودے پر عمل درآمد سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کی، جبکہ اس سے وابستہ پورٹیکس ٹریڈ لمیٹڈ کو مالی لین دین کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے بھائی احمد خلف اللہ نے پہلے سودے کی رقم میں سے 18 لاکھ 50 ہزار درہم وصول کیے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ نہ اسے، نہ اس کے بھائی کو اور نہ ہی ان کی کمپنی کو فوجی سازوسامان کی تجارت کا لائسنس حاصل تھا۔
عدالت کے مطابق ملزمان نے جعلی دستاویزات، کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اسلحے کے غیر قانونی سودوں سے متعلق رقوم کی منتقلی، ان کے ذرائع اور منزل چھپانے اور منی لانڈرنگ کا منظم منصوبہ بنایا۔ یہ سودے سوڈان میں جاری مسلح تنازع کے دوران اور تنازع کے ایک فریق کے فائدے کے لیے کیے گئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین اور مالیاتی نظام کو ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے سے عالمی برادری کے ساتھ ملک کے تعلقات اور قومی مفادات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہوا، خصوصاً اسلحے کی فراہمی پر عائد متعلقہ بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں۔
عدالت نے اسلحے کے غیر قانونی سودوں، جعل سازی اور جعلی دستاویزات کے استعمال کو ایک ہی مجرمانہ منصوبے کا حصہ قرار دیا، جبکہ منی لانڈرنگ کو الگ جرم تصور کیا۔ متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف الشمسی نے تحقیقات، تکنیکی شواہد اور مالیاتی ریکارڈ کی بنیاد پر ملزمان کو مقدمے کی کارروائی کے لیے عدالت بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ تحقیقات میں کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اسلحے، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی غیر قانونی تجارت اور اس سے منسلک رقوم کی منی لانڈرنگ کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔







