متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں قرض یا ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کرنے والے رہائشی چھ ماہ کے اندر اپنا کریڈٹ سکور بہتر بنانا شروع کر سکیں گے۔

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں قرض یا ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کرنے والے رہائشی چھ ماہ کے اندر اپنا کریڈٹ سکور بہتر بنانا شروع کر سکیں گے۔ اتحاد کریڈٹ بیورو نے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت ڈیفالٹ کے بعد مسلسل چھ ماہ تک باقاعدگی سے ادائیگیاں کرنے والے افراد کم ترین کریڈٹ سکور کی کیٹیگری سے نکل کر اپنی مالی ساکھ بہتر بنانے کی جانب پیش رفت کر سکتے ہیں۔

نئے نظام کو کریڈٹ سکور تھری آئی کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت دو مختلف سکورنگ رینج متعارف کرائی گئی ہیں۔ مستحکم کریڈٹ ہسٹری رکھنے والے افراد کے لیے سکور کی حد 300 سے 850 تک ہوگی، جبکہ محدود کریڈٹ ہسٹری رکھنے والے نئے قرض داروں اور متحدہ عرب امارات میں نئے آنے والے رہائشیوں کے لیے 300 سے 650 تک کی رینج مقرر کی گئی ہے۔

اتحاد کریڈٹ بیورو کے ڈائریکٹر جنرل مروان احمد لطفی کے مطابق، پہلے ڈیفالٹ کرنے والے افراد تقریباً دو سال تک کم ترین کریڈٹ سکور کی کیٹیگری میں رہ سکتے تھے۔ نئے نظام کے تحت مالی مشکلات کے بعد ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افراد کو اپنی کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے کا موقع نسبتاً جلد مل سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتری کا عمل عموماً چھ سے 12 ماہ میں نمایاں ہو سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار ہر فرد کی ادائیگیوں کے ریکارڈ اور مالی رویے پر ہوگا۔

لطفی نے ابوظبی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیورو نے کریڈٹ رویے کا جائزہ لینے کی مدت 24 ماہ سے بڑھا کر 36 ماہ کر دی ہے، تاکہ افراد کی ادائیگیوں کی طویل مدتی تاریخ کو سامنے رکھ کر زیادہ بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق نئے ماڈل کا مقصد عارضی مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد اور بار بار ادائیگیوں میں ناکام رہنے والوں کے درمیان فرق واضح کرنا ہے۔

نئے نظام کے تحت ایسے افراد بھی کریڈٹ سکور حاصل کر سکیں گے جنہوں نے پہلے کبھی قرض یا کریڈٹ کارڈ استعمال نہیں کیا۔ لطفی کے مطابق، نئے رہائشیوں اور محدود کریڈٹ ہسٹری رکھنے والے افراد کو ایک ماہ کے اندر ابتدائی کریڈٹ سکور فراہم کیا جا سکتا ہے۔ کریڈٹ ریکارڈ بہتر ہونے کے ساتھ تقریباً تین سے چار ماہ میں وہ مکمل سکورنگ رینج تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس جائزے میں بینکاری کے علاوہ دیگر معلومات بھی شامل کی جائیں گی، تاکہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ یا ڈیبٹ کارڈ رکھنے والے افراد کی مالی صورتحال کا بھی اندازہ لگایا جا سکے۔ تاہم کریڈٹ سکور ملنے کا مطلب قرض یا کسی مالی سہولت کی منظوری کی ضمانت نہیں، کیونکہ حتمی فیصلہ متعلقہ مالیاتی ادارے کرتے ہیں۔

اتحاد کریڈٹ بیورو نے کریڈٹ سکور حاصل کرنے کی فیس بھی 30 درہم سے کم کرکے 10 درہم کر دی ہے۔ بیورو کے مطابق، کریڈٹ سکور متعارف ہونے کے ابتدائی دور میں اس سروس کی قیمت تقریباً 50 درہم تھی، جسے بعد میں بتدریج کم کیا گیا۔ رہائشی متحدہ عرب امارات کے یو اے ای پاس کے ذریعے بیورو کی موبائل ایپلی کیشن یا ویب سائٹ پر اپنا کریڈٹ سکور دیکھ سکتے ہیں۔ بیورو کے مطابق، اس کی اپ ڈیٹ شدہ ایپلی کیشن تقریباً ایک سال میں 10 لاکھ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے۔

کریڈٹ سکور تھری آئی میں ایک نیا فیچر بھی شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے کریڈٹ سکور پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل دیکھ سکیں گے۔ ان عوامل میں تاخیر سے ادائیگیاں، ڈیفالٹ اور چیک باؤنس ہونے جیسے منفی پہلوؤں کے ساتھ باقاعدہ ادائیگیوں کا مثبت ریکارڈ بھی شامل ہوگا۔ اس سے صارفین کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ان کے مالی فیصلے کریڈٹ ریٹنگ کو کس طرح متاثر کرتے ہیں اور اسے بہتر بنانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

بیورو نے بتایا کہ تیزی سے مقبول ہونے والی قلیل مدتی قرض سہولتوں اور بائے ناؤ، پے لیٹر سروسز کی معلومات بھی کریڈٹ پروفائل میں شامل کی جا رہی ہیں۔ ٹیبی، تمارا اور کیش ناؤ جیسے اداروں کی معلومات پہلے ہی مختلف اپ ڈیٹس کے ذریعے کریڈٹ ریکارڈ کا حصہ بنائی جا چکی ہیں۔ بیورو نے رہائشیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سال میں کم از کم دو مرتبہ اپنی مکمل کریڈٹ رپورٹ چیک کریں اور اس دوران بھی ضرورت کے مطابق کریڈٹ سکور کا جائزہ لیتے رہیں۔

ستمبر 2026 تک اتحاد کریڈٹ بیورو کے ڈیٹا بیس میں تقریباً ایک کروڑ 16 لاکھ افراد اور کاروباری اداروں، دو کروڑ 20 لاکھ فعال کریڈٹ معاہدوں اور دو کروڑ 53 لاکھ فعال بین الاقوامی بینک اکاؤنٹ نمبرز کا ریکارڈ موجود تھا۔ بیورو کی جانب سے جاری کردہ کریڈٹ رپورٹس اور سکورز کی تعداد بھی 2015 میں تقریباً 10 لاکھ سے بڑھ کر 2025 میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ حکام کے مطابق، نئے نظام کو متعارف کرانے سے پہلے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں نے کئی ماہ تک اس کی آزمائش کی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button