
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ام القوین اور شارجہ کے ساحلی علاقوں کے قریب تیل کے اخراج پر قابو پانے کے لیے مقامی کمپنیوں، ماحولیاتی ماہرین اور تکنیکی ٹیموں نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ساحلی ماحول اور حساس علاقوں کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے آلات، افرادی قوت اور تکنیکی مہارت کو مشترکہ کوششوں کے تحت متحرک کیا گیا ہے۔
ام القوین میں سمندری آلات تیار کرنے والی کمپنی ایکو کوسٹ کی فیکٹری میں تیل روکنے والے خصوصی بومز کی تیاری 24 گھنٹے جاری ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوآخم ڈی جینلس کے مطابق تیل کے اخراج کے بعد فیکٹری میں روزانہ مختلف شفٹوں میں پیداوار جاری ہے۔ اس وقت تقریباً 10 کلومیٹر طویل آئل بومز تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں مختلف سائز کے فینس آئل بومز اور ٹھوس فلوٹیشن آئل بومز شامل ہیں۔ مزید آرڈرز بھی موصول ہو رہے ہیں۔
کمپنی کی کشتیاں 28 اکتوبر کو متحرک کی گئیں اور ٹیمیں موقع پر تنصیبات کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ڈی جینلس کے مطابق اس وقت تمام دستیاب وسائل اور عملہ اس کام کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے جمعے کو تصدیق کی کہ آلودگی کی شدت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم تکنیکی ٹیمیں صفائی کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یو اے ای میں مقیم ماحولیاتی سائنس دان اور تیل کے اخراج سے نمٹنے کے ماہر ڈاکٹر ایوان ایریمین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں ابتدائی 24 سے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران آلات اور امدادی ٹیموں کو فوری متحرک کرنا ضروری ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ تیل کی کیمیائی اور طبعی حالت تبدیل ہوتی ہے، جس کے باعث اسے روکنا، جمع کرنا اور روایتی طریقوں سے صاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈی جینلس کے مطابق ساحلوں، مینگرووز اور پانی کے ذخیرہ یا فراہمی کے مقامات کو محفوظ رکھنے کے لیے تیل روکنے والے بومز نصب کرنا ابتدائی اقدامات میں شامل ہے۔ تیل کے پہنچنے سے پہلے یہ رکاوٹیں جتنی جلد نصب ہوں گی، متاثرہ علاقے کا پھیلاؤ اتنا ہی محدود رکھا جا سکے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ساحلی علاقے میں پانی کی صورتحال بھی کارروائی کو پیچیدہ بناتی ہے۔ مرکزی سمندری رو شمال کی جانب ساحل کے ساتھ بہتی ہے، تاہم ساحل کے قریب مقامی لہریں، مدوجزر اور ہوا تیل کو مختلف سمتوں میں دھکیل سکتے ہیں۔ اسی لیے کمپنی پانی میں نصب ڈیٹا بوائز اور خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے لہروں اور سمندری رو کی قوت کا اندازہ لگاتی ہے تاکہ تیل روکنے والے نظام کو مؤثر انداز میں نصب کیا جا سکے۔
ام القوین کا ساحل سبز سمندری کچھوؤں، سمندری سانپوں، ڈولفن اور مختلف پرندوں کا مسکن ہے، جن میں فلیمنگو، ٹرنز، بگلے اور سوکوترا کورمورنٹس شامل ہیں۔ تیل مینگرووز کی جڑوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ سمندر میں طوفانی موسم کے دوران بیرونی حفاظتی جزیرے کے قریب مرجان بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور مقامی سطح پر آلات کی تیاری کو اہم قرار دیا ہے۔ ڈی جینلس کے مطابق مقامی فیکٹریوں کی موجودگی سے آلات کی تیاری، ترسیل اور تنصیب تیزی سے ممکن ہوتی ہے اور بیرون ملک سے سامان آنے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے بتایا کہ کلبا شہر میں ہنگامی حالات کے لیے آئل بومز پہلے سے تیار رکھے جاتے ہیں، جو دیگر حکام اور امدادی ٹیموں کے لیے بھی ایک مؤثر مثال ہے۔
ڈاکٹر ایوان ایریمین نے بین الاقوامی تعاون، خصوصی آلات، تربیت یافتہ ٹیموں اور مشترکہ مشقوں میں سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سمندری آلودگی اور تیل کے اخراج کی کوئی قومی سرحد نہیں ہوتی۔ ڈی جینلس کے مطابق حکام، امدادی ٹیموں اور سپلائرز کے درمیان مضبوط رابطہ موجود ہے، جبکہ صنعت میں آئل بومز کی طلب بڑھ گئی ہے اور زمین پر جتنی زیادہ صلاحیت دستیاب ہوگی، ساحلی علاقوں کو اتنا ہی بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے گا۔







