
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں موسم سرد ہوتے ہی شہریوں نے خود کو گرم رکھنے کے لیے مقبول کڑک چائے کا استعمال بڑھا دیا ہے، جبکہ بہت سے افراد سردیوں میں بیماریوں سے بچنے کے لیے وٹامن سی، زنک، ادرک کے کیپسول اور قوت مدافعت بڑھانے والے سپلیمنٹس بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم امارات نیوٹریشن سوسائٹی کی سیکریٹری جنرل ندا زہیر احمد الادیب کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر مصنوعات وہ فوائد فراہم نہیں کرتیں جن کی لوگ توقع رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق صحت مند موسمِ سرما کی تیاری فارمیسی کے بجائے باورچی خانے سے شروع ہوتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے قومی صحت سروے کے مطابق 83 فیصد سے زائد اماراتی مرد اور خواتین روزانہ پھلوں اور سبزیوں کی پانچ مقداریں استعمال نہیں کرتے، حالانکہ عالمی ادارہ صحت کم از کم پانچ مقداروں کی سفارش کرتا ہے۔
ندا الادیب کے مطابق یہی غذائی کمی موسم کی تبدیلی کے دوران لوگوں کو بیماریوں کے لیے زیادہ حساس بنا سکتی ہے۔ مدافعتی نظام بہتر انداز میں کام کرنے کے لیے مختلف غذائی اجزا کا محتاج ہوتا ہے۔ مالٹے اور امرود وٹامن سی فراہم کرتے ہیں، جبکہ ہری پتوں والی سبزیاں، بروکلی اور گاجر فولیٹ اور کیروٹینائڈز کا ذریعہ ہیں۔ مرغی، مچھلی، انڈے اور دالوں سے جسم کو وہ پروٹین ملتی ہے جو مدافعتی خلیات بنانے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرِ غذائیت کا کہنا ہے کہ شہد کھانسی میں واقعی سکون پہنچا سکتا ہے اور ادرک میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات موجود ہیں، تاہم فائدہ مند غذائی اجزا اور بیماریوں سے بچاؤ کی ضمانت دینے والے مرکبات میں فرق ہے۔ ان کے مطابق لوگ بعض اوقات ایسے قدرتی آمیزوں کو بیماریوں کے خلاف ڈھال سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ سائنسی شواہد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔
انہوں نے کڑک چائے اور میٹھی چائے کے استعمال میں بھی اعتدال کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق سردیوں میں یہ مشروبات اماراتی معاشرتی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور انہیں مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم دن بھر میں کئی کپ زیادہ چینی والی چائے پینا اور اسے صحت کے لیے فائدہ مند سمجھنا درست نہیں۔
ندا الادیب کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وٹامن سی کے استعمال سے نزلہ زکام ہونے کی تعداد میں کمی نہیں آتی۔ وٹامن ڈی اور زنک مدافعتی نظام کے لیے اہم ضرور ہیں، لیکن سپلیمنٹس کی صورت میں ان کا استعمال اس وقت زیادہ مناسب ہے جب خون کے ٹیسٹ سے جسم میں ان کی کمی ثابت ہو، نہ کہ صرف سردیوں کی آمد پر انہیں استعمال کرنا شروع کر دیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بعض افراد مختلف سپلیمنٹس ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں، حالانکہ ان میں ایک جیسے غذائی اجزا موجود ہو سکتے ہیں۔ اس طرح روزانہ ان اجزا کی مقدار محفوظ حد سے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق متوازن غذا جسم کو مختلف ضروری غذائی اجزا فراہم کرتی ہے، کوئی ایک وٹامن اس کا متبادل نہیں بن سکتا۔
ماہرِ غذائیت نے سردیوں میں مناسب مقدار میں پانی پینے، اچھی نیند لینے اور موسم سازگار ہونے پر باہر چہل قدمی کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں پیاس کم محسوس ہوتی ہے، اس لیے پانی پینے کا معمول برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سپلیمنٹس خریدنے سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ روزمرہ خوراک میں سبزیوں کی مناسب مقدار شامل ہے یا نہیں۔







