متحدہ عرب امارات

شارجہ کے رہائشی کی سانس کی نالی میں دو ماہ سے پھنسی مچھلی کی ہڈی ڈاکٹروں نے نکال دی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست شارجہ میں ڈاکٹروں نے ایک 60 سالہ شخص کی سانس کی نالی میں تقریباً دو ماہ سے پھنسی مچھلی کی ہڈی کامیابی سے نکال دی، جس کے باعث اس کی سانس لینے کی صلاحیت متاثر ہو رہی تھی۔ ہڈی دائیں پھیپھڑے تک جانے والی مرکزی سانس کی نالی میں پھنسی ہوئی تھی۔

60 سالہ انّی کرشنن سیوارامن کے مطابق یکم جولائی کو کھانا کھاتے ہوئے مِلک فِش مچھلی کی ہڈی غلطی سے ان کی سانس کی نالی میں چلی گئی۔ اس کے کچھ دیر بعد انہیں بے چینی، متلی اور خون کی الٹی ہوئی، جس پر وہ القصیص کے ایسٹر اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ پہنچے۔

تاہم مسئلہ برقرار رہا اور انہیں مسلسل کھانسی، سینے میں جکڑن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید طبی معائنے کے دوران ایک دوسرے اسپتال میں سی ٹی اسکین سے انکشاف ہوا کہ ہڈی سانس کی نالی کے نچلے حصے میں پھنسی ہوئی ہے۔ بعد ازاں انہیں علاج کے لیے ایسٹر اسپتال القصیص اور پھر ایسٹر اسپتال منخول منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ تقریباً دو سینٹی میٹر لمبی ہڈی دائیں پھیپھڑے تک ہوا پہنچانے والی مرکزی سانس کی نالی میں موجود تھی۔ تقریباً دو ماہ تک ہڈی پھنسے رہنے کے باعث اس کے گرد سوزش اور اضافی بافتیں بن چکی تھیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق ہڈی کی جگہ اور اس کے نوکیلے کناروں کے باعث اسے نکالنا خطرناک تھا۔ اس دوران سانس کی نالی کو نقصان پہنچنے، خون بہنے، ہوا کی گزرگاہ بند ہونے اور مریض کے جسم میں آکسیجن کی سطح برقرار رکھنے میں دشواری کا خدشہ تھا۔

پلمونولوجسٹ ڈاکٹر جولسانا آگسٹین، ناک، کان اور گلے کے ماہر ڈاکٹر بھارت نیرنکی ستیش راؤ اور اینستھیزیا کے ماہرین ڈاکٹر ابھیشیک جے پرکاش نارائن اور ڈاکٹر سراج مدای میتھل نے مشترکہ طور پر آپریشن کی منصوبہ بندی کی۔

11 ستمبر کو ڈاکٹر آگسٹین نے برونکوسکوپ کی مدد سے ہڈی کو دائیں مرکزی سانس کی نالی سے اوپری حصے کی جانب منتقل کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر راؤ نے خصوصی آلات کی مدد سے صوتی ڈوریوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ہڈی نکال لی۔ بعد میں دوبارہ برونکوسکوپی کرکے سانس کی نالی کا معائنہ کیا گیا اور رطوبت بھی صاف کی گئی۔

ڈاکٹر آگسٹین کے مطابق اگر کوئی بیرونی چیز طویل عرصے تک سانس کی نالی میں موجود رہے تو سوزش اور اضافی بافتوں کے باعث اسے نکالنے کا عمل زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر راؤ نے بتایا کہ ہڈی صوتی ڈوریوں کے قریب تھی، اس لیے اسے نکالتے ہوئے ان حصوں کو محفوظ رکھنا خاص طور پر ضروری تھا۔

سیوارامن کو چند گھنٹوں بعد مستحکم حالت میں اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بعد ازاں معائنے میں انہوں نے بتایا کہ ان کی سانس لینے کی صلاحیت بہتر ہوگئی ہے اور انہیں مزید علاج کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے ڈاکٹروں کی دیکھ بھال اور علاج پر شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button