
خلیج اردو
ابوظہبی کے حکام نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صحرائی سرخ لومڑیاں انسانوں اور پالتو جانوروں کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔ حکام کے مطابق یہ لومڑیاں امارت کی جنگلی حیات کا اہم حصہ ہیں اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ابوظہبی میں صحرائی سرخ لومڑی نظر آنے پر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھبرانے کے بجائے محفوظ فاصلے سے اس کا مشاہدہ کریں۔ محکمہ بلدیات و ٹرانسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ لومڑی کے قریب جانے یا اسے کھانا کھلانے کی کوشش نہ کی جائے۔ حکام کے مطابق لومڑیاں بھی جاندار ہیں اور ان کے ساتھ ہمدردی اور احتیاط سے پیش آنا چاہیے۔
محکمے نے بتایا کہ ابوظہبی میں صحرائی سرخ لومڑیوں کی آبادی خاصی تعداد میں موجود ہے۔ یہ جانور فطری طور پر شرمیلے ہوتے ہیں اور انسانوں سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں لومڑی نظر آئے تو شہری پرسکون رہیں اور فاصلے سے اسے دیکھنے کے تجربے سے لطف اندوز ہوں۔
حکام نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر تیز آواز یا روشن روشنی سے لومڑی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاؤں زور سے زمین پر مارنا یا ہاتھ میں موجود تیز روشنی والی ٹارچ اس کی جانب کرنا مؤثر ہوسکتا ہے۔ تاہم لومڑی کے قریب جانے یا اسے نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے۔
حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیا اور کچرا لومڑیوں کو رہائشی علاقوں کی جانب متوجہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے کچرے کے ڈبوں کو ہمیشہ اچھی طرح بند رکھا جائے اور فضلہ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔ آوارہ بلیوں کو ذمہ داری کے ساتھ کھانا کھلانے سے بھی محلوں میں لومڑیوں کی آمد کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فارم ہاؤسز اور دیگر نجی املاک میں بھی صحرائی سرخ لومڑیاں خوراک یا کچرے کی تلاش میں داخل ہوسکتی ہیں۔ حکام نے مشورہ دیا ہے کہ باہر رکھے گئے پالتو جانوروں، آوارہ جانوروں اور مویشیوں کو ذمہ داری سے خوراک دی جائے۔ مویشیوں اور پالتو جانوروں کو مضبوط باڑ کے اندر رکھا جائے تاکہ لومڑیوں کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔
لومڑیوں کی آمد روکنے کے لیے محفوظ باڑ لگانے، مویشیوں کے باڑوں کو مضبوط بنانے، جھاڑیوں اور غیر ضروری گھاس کی صفائی، کمپوسٹ کے ڈبوں کو محفوظ رکھنے اور حرکت محسوس کرنے والی روشنیاں نصب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کھودنے سے روکنے والی نوکیلی پٹیاں اور محفوظ خوشبو والے قدرتی مواد، مثلاً ترش پھلوں کے چھلکے، لال مرچ، سٹرونیلا اور پودینے کا تیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لہسن اور مارکیٹ میں دستیاب لومڑیوں کو دور رکھنے والی مصنوعات بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
ابوظہبی حکام نے واضح کیا ہے کہ لومڑیوں کو پکڑ کر علاقے سے ہٹانا یا انہیں مارنا مسئلے کا مؤثر حل نہیں۔ ان کے مطابق صحرائی سرخ لومڑیاں اپنے لیے مخصوص علاقے بناتی ہیں جہاں عموماً ایک خاندانی گروہ رہتا ہے۔ اگر کسی علاقے سے لومڑی کو ہٹا دیا جائے تو چند دن میں دوسری لومڑی اس جگہ پر قبضہ کر سکتی ہے۔ لومڑیوں کی تعداد کم کرنے سے اگلے سال ان کی افزائش میں اضافے کا امکان بھی رہتا ہے۔
صحرائی سرخ لومڑی ایک شکاری جانور ہے جس کے کان بڑے، جسم دبلا اور دم لمبی اور گھنی ہوتی ہے۔ اس کا وزن عموماً تین سے پانچ کلوگرام ہوتا ہے جبکہ جسم کی لمبائی شاذونادر ہی 72 سینٹی میٹر سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی خوراک میں چوہے، پرندے، کیڑے مکوڑے، صحرائی پودے، بچھو جیسے چھوٹے جاندار اور مردہ جانور شامل ہیں۔
یہ لومڑیاں ابوظہبی کے صحراؤں، کھیتوں، شہری علاقوں اور مضافاتی آبادیوں سمیت مختلف ماحول میں پائی جاتی ہیں۔ شہری آبادیوں کے پھیلاؤ کے باعث رہائشی علاقوں میں ان کی موجودگی بڑھی ہے۔ یہ زیادہ تر رات کے وقت سرگرم رہتی ہیں اور عموماً دو سے چار سال تک زندہ رہتی ہیں۔







