متحدہ عرب امارات

شیخ محمد بن راشد کا سالانہ سرکاری چیلنج شروع کرنے کا اعلان، 90 لاکھ درہم کے انعامات مقرر

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے سالانہ گورنمنٹ چیلنج کا آغاز کردیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کے ملازمین کو قومی ترجیحات کے لیے جدید خیالات اور عملی حل پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

انوویشن منتھ کے آغاز پر شروع کیے گئے اس نئے قومی اقدام کا مقصد سرکاری ملازمین کے خیالات کو ایسے قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے جنہیں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔ ان منصوبوں کے ذریعے سرکاری خدمات، انتظامی امور اور فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے ساتھ وفاقی وزارتوں اور اداروں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

چیلنج کے پہلے مرحلے میں ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے حل تیار کرنے اور انہیں سرکاری خدمات اور انتظامی نظام میں استعمال کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فیصلہ سازی بہتر بنانے اور سرکاری اداروں کی مجموعی کارکردگی میں اضافے کے لیے منصوبے پیش کیے جائیں گے۔

پہلے ایڈیشن میں تین مختلف کیٹیگریز کے تحت نو کامیاب منصوبوں کو انعامات دیے جائیں گے، جن کی مجموعی مالیت 90 لاکھ درہم مقرر کی گئی ہے۔ اس چیلنج میں تمام وفاقی وزارتیں، سرکاری ادارے اور ان کے ملازمین حصہ لے سکتے ہیں۔

وزیر مملکت برائے کابینہ امور اور نیشنل کمیٹی برائے ایجنٹک اے آئی پراجیکٹ کے چیئرمین محمد بن عبداللہ القرقاوی نے کہا کہ یہ اقدام ایسی حکومت کے بارے میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کے وژن کی عکاسی کرتا ہے جو مستقبل کی تبدیلیوں کا پہلے سے اندازہ لگائے اور معاشرے کے فائدے کے لیے اپنے ملازمین کی مہارت سے استفادہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ایجنٹک اے آئی معاونین کو سرکاری ملازمین کے ساتھ کام کرنے کے لیے متعارف کرایا جائے گا، جس سے کارکردگی اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سرکاری امور کی ازسرنو تشکیل اور کام کے نئے طریقہ کار متعارف کرانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

چیلنج کے تحت پہلی کیٹیگری گورنمنٹ سروسز ہے، جس میں صارفین کے لیے خدمات کے مراحل بہتر بنانے، طریقہ کار آسان کرنے اور تیز رفتار و فعال سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ دوسری کیٹیگری انٹرنل آپریشنز ہے، جس کا مقصد بار بار کیے جانے والے کام کم کرنا، اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

تیسری کیٹیگری غیر روایتی خیالات پر مشتمل ہے، جس میں سرکاری امور کے لیے نئے طریقے اور قومی ترجیحات سے متعلق جدید حل پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

پیش کیے جانے والے منصوبوں کا جائزہ قومی اور حکومتی ترجیحات سے مطابقت، قابلِ عمل ہونے، ایجنٹک اے آئی کے استعمال، نتائج کے قابلِ پیمائش اثرات، بڑے پیمانے پر نفاذ کی صلاحیت، نگرانی کے نظام اور پائیداری کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ خواہش مند ٹیمیں اور سرکاری ادارے چیلنج کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم challenge.gov.ae کے ذریعے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔

یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے اس حکومتی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت آئندہ دو سال میں سرکاری شعبوں، خدمات اور انتظامی امور کا 50 فیصد ایجنٹک اے آئی ماڈلز پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد حکومتی کارکردگی بہتر بنانا، خدمات کی فراہمی تیز کرنا اور مستقبل کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے سرکاری اداروں کی تیاری مضبوط بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button